کابل ایئرپورٹ مشن کے لیے ترکی سب سے قابلِ بھروسا ملک ہے، گلبدین حکمتیار

0 783

افغانستان کے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمتیار نے کہا ہے کہ افغانستان کے پاس کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے تحفظ کے لیے ضروری وسائل نہیں ہیں اور اسے چلانے کے لیے دوسرے ملک کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ ترکی اس حوالے سے بہترین اور سب سے قابلِ بھروسا ملک ہے۔

ایک خصوصی انٹرویو میں افغان رہنما نے کہا ہے کہ وہ اور ان کی جماعت حزبِ اسلامی نے کابل ایئرپورٹ کے تحفظ اور انتظامات کے معاملے پر طالبان کے ساتھ بات چیت کی ہے۔ "ہوائی اڈے کو سفارت کاروں کے لیے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ بیرون ملک سے آ سکیں اور با آسانی کام کر سکیں۔ افغانستان کے پاس ہوائی اڈے کو تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔ اس لیے ہمیں کسی دوسرے ملک کی مدد کی ضرورت ہوگی۔ ترکی اس حوالے سے بہترین اور سب سے قابلِ بھروسا ملک ہے۔ ہم نے یہ بات طالبان کو بھی بتائی ہے۔ ترکی اور افغانستان صدیوں پرانے تعلقات رکھتے ہیں۔

ترک وزیر دفاع خلوصی آقار نے سوموار کو ایک مرتبہ پھر کہا تھا کہ اگر مناسب شرائط کے ساتھ اس سے دوبارہ درخواست کی گئی تو ترکی کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے معاملات پر دوبارہ غور کر سکتا ہے۔

ترکی امریکی انخلا کے بعد کابل ایئرپورٹ کو چلانے کے معاملات پر طالبان اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا۔ لیکن طالبان کی جانب سے افغان دارالحکومت پر قبضے کے بعد ترکی کے منصوبے بدل چکے ہیں۔

جنگ چھوڑیں، مذاکرات پر آئیں، آئندہ انتخابات میں حصہ لیں گے، گلبدین حکمتیار

ترکی نے ہوائی اڈے کو چلانے کے لیے تکنیکی اور سکیورٹی مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد ہوائی اڈے کو کھلا رکھنا نہ صرف افغانستان کے بیرونی دنیا کے ساتھ جڑے رہنے بلکہ امدادی رسد اور آپریشنز کے لیے ضروری ہے۔ ترک حکام کا کہنا ہےکہ طالبان نے کابل کا ہوائی اڈہ چلانے کے لیے ترکی سے تکنیکی مدد طلب کی تھی، لیکن ساتھ ہی زور دیا تھا کہ ترک فوج ڈیڈ لائن مکمل ہونے سے پہلے انخلا مکمل کرے۔ جس پر ترکی نے جمعے کو اپنے دستوں کو مکمل طور پر نکال لیا۔ یہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن سے کہیں پہلے کیا گیا کہ جب دیگر بین الاقوامی افواج نے ملک چھوڑا۔

بہرحال، حکمت یار کا کہنا ہے کہ دو دہائیوں بعد آخری امریکی فوجی کا بھی ملک چھوڑ جانا افغانستان کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ افغانستان اپنے تزویراتی محلِ وقوع کی وجہ سے بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے برطانیہ، پھر سوویت یونین اور اب نیٹو کی افواج اپنی طاقت آزما چکی ہیں اور افغانستان چھوڑ گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ غیر ملکی افواج کے چھوڑتے ہی افغانستان میں بد امنی کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ ایک آزاد اور جنگ سے پاک افغانستان کی تعمیر کے لیے ایک بہت سا کام کرنا ابھی باقی ہے۔

نئی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے طالبان کے ساتھ مذاکرات پر حکمت یار نے کہا ہے وہ ایک جامع نئی حکومت کے حامی ہیں۔ "ہمارے ساتھ ملاقاتوں میں طالبان رہنماؤں نے ایک جامع حکومت کے قیام کی خواہش ظاہر کی ہے۔ ہم اس حوالے سے ان کی حمایت کرتے ہیں اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ ہمارا واحد ہدف ہے ایک مضبوط حکومت کا قیام۔ ایک حکومت تب تک حکومت نہیں ہو سکتی جب تک وہ مضبوط نہ ہو۔ ہم افغانستان میں ایک جامع حکومت کی حمایت کرتے ہیں، اتحادی حکومت کی نہیں۔

افغانستان میں ترکی کا بطور “پلے میکر” کردار لیکن پاکستان کے ساتھ ہی ممکن ہے

گلبدین حکمتیار نے 1977ء میں حزبِ اسلامی قائم کی تھی اور سوویت یونین کے خلاف جہاد میں ایک نمایاں رہنما تھے۔ انہوں نے روسی قبضے کے خاتمے کے بعد مختصر عرصے کے لیے ملک کے وزیر اعظم کا عہدہ بھی سنبھالا لیکن 1996ء میں کابل پر طالبان کا قبضہ ہو جانے کے بعد شہر چھوڑ گئے۔ بعد ازاں انہوں نے نائن الیون کے بعد افغانستان پر قبضہ کرے والی امریکی فوج کے خلاف مزاحمت بھی جاری رکھی اور ان شخصیات میں شامل تھے کہ جنہیں امریکی تلاش کر رہے تھے۔

گلبدین مئی 2017ء میں اس وقت کابل میں واپس آئے جب افغانستان میں مفاہمت کے لیے ایک قانون لاگو کیا گیا تھا، جس کے تحت ان کا نام پابندی رکھنے والی شخصیات کی فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...