ترکی میں جرمنی، روس اور چین کی کرونا وائرس ویکسین کا تجربہ کرنے پر غور

0 233

ترکی کرونا وائرس کی ممکنہ ویکسین تک فوری رسائی کے راستے تلاش کر رہا ہے۔ گو کہ ملک میں مقامی سطح پر ویکسین تیار کرنے کا کام بھی جاری ہے، لیکن ترکی دوسرے ملکوں سے ویکسین درآمد کرنے کے لیے بھی مذاکرات کر رہا ہے۔ وزیر صحت فخر الدین کوجا نے تصدیق کی ہے کہ اس معاملے میں روس، چین اور جرمنی سے گفتگو ہو رہی ہے۔

وزارتِ صحت کے کرونا وائرس سائنٹیفک ایڈوائزری بورڈ کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فخر الدین نے بتایا کہ انہوں نے کرونا وائرس ویکسین کے فیز3 ٹرائلز کے حوالے سے تین ملکوں سے مذاکرات کیے ہیں۔ کوجا نے کہا کہ ترکی میں 13 ویکسینز بنائی جا رہی ہیں، جن میں سے تین جانوروں پر تجربات کے مرحلے سے آگے جا چکی ہیں۔

ترک حکام نے اس مہینے کے اوائل میں اعلان کیا تھا کہ 2021ء کے آغاز میں ایک ویکسین کی دستیابی کا امکان ہے۔ ملک میں اس وقت اٹھارہ ریسرچز جاری ہیں، جن میں سے آٹھ ویکسین اور 10 دوا کی تیاری کے حوالے سے ہیں۔ ایک سرکاری پلیٹ فارم اس پورے عمل کی نگرانی کر رہا ہے۔ اینٹی کرونا وائرس پروجیکٹ میں 25 جامعات کے 225 محققین، آٹھ پبلک ریسرچ باڈیز اور آٹھ نجی ادارے شامل ہیں۔

دنیا بھر میں نصف درجن سے زیادہ ادویات ساز ادارے ایڈوانس کلینکل ٹرائلز کر رہے ہیں، جن میں سے ہر ایک میں لاکھوں افراد شامل ہیں، ان میں سے کئی افراد کو امید ہے کہ سال ختم ہونے تک انہیں پتہ چل جائے گا کہ COVID-19 ویکسین نے کام دکھایا اور یہ محفوظ ہے۔

پچھلے ہفتے روس ایک ویکسین کی منظوری دینے والا دنیا کا پہلا ملک بنا ہے، جس نے پہلے batch کی تیاری کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس کا ارادہ ہے کہ ستمبر میں ابتدائی صنعتی پیداوار شروع کی جائے اور دسمبر یا جنوری تک ماہانہ 50 لاکھ ڈوز بنائے جائیں۔

جرمنی میں بایوٹیکنالوجی فرم CureVac کو امید ہے کہ اس کی ویکسین 2021ء کے وسط تک مارکیٹ میں دستیاب ہوگی۔ 17 اگست کو چین کی CanSino بایولوجکس انکارپوریٹڈ نے اپنی COVID-19 ویکسین کی امیدوار Ad5-nCOV کے لیے بیجنگ سے پیٹنٹ کی منظوری لے لی ہے، جو ایسا کرنے والا پہلا ملک ہے۔ وہ ویکسین کے لیے فیز3 ٹرائلز شروع کرنے کے لیے روس، برازیل اور چلی سے بات کر رہا ہے جبکہ سعودی عرب نے بھی چینی ویکسین کے لیے کلینکل ٹرائلز میں دلچسپی دکھائی ہے۔

امریکا، برطانیہ، جاپان اور یورپی یونین سمیت کئی حکومتیں ویکسین بنانے والوں کے ساتھ اربوں ڈالز کے معاہدے کر چکی ہیں۔ امریکا ڈیولپمنٹ، ٹیسٹنگ، مینوفیکچرنگ اور کروڑوں ویکسینز ذخیرہ کرنے کے لیے ہی تقریباً 11 ارب ڈالرز خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

ترکی مارچ سے اس وباء کا شکار ہے اور روزانہ سامنے آنے والے کیسز کی تعداد گھٹانے اور ٹیسٹس کی تعداد بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ فخر الدین کوجا کہتے ہیں کہ ترکی میں روزانہ ٹیسٹس کی تعداد چند دنوں میں 1,00,000 روزانہ ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ملک میں 1,303 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے ساتھ ہی کل تعداد 2,53,108 تک جا پہنچی ہے۔ اسی دوران 1,002 مریض صحت یاب بھی ہوئے جس کے ساتھ ہی صحت یاب ہونے والوں کی تعداد 2,33,915 ہو گئی ہے۔ 23 مزید افراد کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد بھی 6,039 ہو گئی ہے۔

اس وقت ترکی میں روزانہ ہونے والے ٹیسٹس کی تعداد 87,223 تک گئی ہے اور اب تک ہونے والے کُل ٹیسٹس کی تعداد 59 ہوئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ "COVID-19 کے اور دوسرے مریض بھی ملا کر ملک بھر کے ہسپتالوں میں موجود بستروں میں سے 51.3 فیصد ہی بھرے ہوئے ہیں جبکہ انتہائی نگہداشت کے 64.8 فیصد یونٹس اور 31.7 فیصد وینٹی لیٹرز پر مریض موجود ہیں۔”

کوجا نے ترکی میں وائرس کے شکار افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب توجہ دلائی کہ جن کے روزانہ کیسز کی تعداد ڈیڑھ مہینے میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

تبصرے
Loading...