ترکی کو لازماً قدم اٹھانا ہوگا اپنے مستقبل کے لیے ہی نہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی، صدر ایردوان

0 639

سفیروں کی 11 ویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی کو اپنے مستقبل کے لیے ہی نہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی لازماً قدم اٹھانا ہوگا۔ حال ہی میں ہمیں شام میں جس تجربے کا سامنا کرنا پڑا، اس نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جب تک آپ میدانِ عمل میں موجود نہ ہوں مذاکرات کی میز پر آپ کو نشست نہیں مل سکتی۔ ہم بلاشبہ مذاکرات، سافٹ پاور کے عناصر، ‘سخت ڈپلومیسی’ کے ذرائع اور ضرورت پڑنے پر حقیقی طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا دفاع کریں گے۔ ”

صدر رجب طیب ایردوان نے ایوانِ صدر میں سفیروں کے لیے ایک ظہرانے کا اہتمام کیا۔

"ہماری دنیا ڈپلومیسی میں بھی ایک بڑی تبدیلی کے عمل سے گزر رہی ہے”

ظہرانے سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ دنیا ٹیکنالوجی میں جدت کے ساتھ ساتھ ڈپلومیسی میں بھی تبدیلی کے ایک بڑے عمل سے گزر رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ دہائیوں پرانی حرکیات کے ساتھ آج کی دنیا کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ "ریاستوں، اور ساتھ ہی انفرادی شخصیات، اداروں اور معاشروں کو بھی، نئے زمانے کا ادراک ہونا چاہیے اور انہی اسی کے مطابق اپنی پالیسیاں مرتب کرنا ہوں گی۔” صدر نے کہا۔

اس امر پر زور دیتے ہوئے کا جدید دور میں بین الاقوامی نظام کثیر المرکزی ڈھانچے میں تبدیل ہو چکا ہے، صدر نے کہا کہ "اس تبدیلی نے غیر یقینی کیفیت کو بڑھاوا دیا ہے اور فیصلہ سازی کے معاملات میں نئے خطرات کا سامنا ہے۔

"عالمی سلامتی و استحکام کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ادارے اب توقعات پر پورا نہیں اتر رہے”

یہ کہتے ہوئے کہ عالمی سلامتی و استحکام کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار ادارے اب توقعات پر پورا نہیں اتر رہے، اور بین الاقوامی برادری عالمی امن، خشک سالی اور عدم استحکام جیسے بنیادی مسائل کے حل کے لیے طویل المیعاد حل پیش کرنے کی صلاحیت کھو رہی ہے کہ جو اس کے مستقبل کے لیے خطرہ ہیں، صدر ایردوان نے مزید کہا کہ "ایک جانب ہم ڈجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت، اقتصادی نمو اور موٹاپے پر بات کر رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ہم اس حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں کہ 2 ارب افراد سخت غربت کے عالم میں زندہ ہیں۔”

صدر نے مزید زور دیا کہ "صومالیہ، ہیٹی اور گنی کے سیاست دان اپنے شہریوں کی غربت، مفلسی اور ناامیدی کے حل تلاش کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب امریکی سیاست دان موٹاپے اور خوراک کے ضیاع پر بات کر رہے ہیں۔ اگر دنیا کے امیر ترین 60 افراد کی کُل دولت 3.6 ارب انسانوں کے برابر ہو، جو دنیا کی آدھی آبادی ہے، تو یہ بڑا مسئلہ ہے۔ اگر دہشت گرد تنظیموں کے حوالے سے دہرے معیارات کم ہونے کے بجائے مزید پھیل جائیں، دہشت گرد رہنماؤں کا صدارتی ایوانوں میں خیر مقدم کیا جائے اور قاتلوں کو قانونی حیثیت دینے کے لیے اقوام متحدہ میں خصوصی کوششیں کی جائے تو یہاں بہت کچھ غلط ہے۔”

صدر ایردوان نے کہا کہ "ایسی ذہنیت جو انسان کی بحیثیتِ انسان قدر نہ کرے وہ عالمی سلامتی اور امن کو یقینی نہیں بنا سکتی۔”

"امن کے تحفظ کو ایک طویل جدوجہد درکار ہوتی ہے”

امن کا تحفظ ایک طویل عرصے تک اور سخت جدوجہد کا متقاضی ہوتا ہے، اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ترکی کو نہ صرف اپنے مستقبل بلکہ خطے کے امن و سکون کے لیے بھی قدم اٹھانا ہوگا۔ حال ہی میں شام میں ہمیں جس تجربے کا سامنا کرنا پڑا، اس نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا کہ جب تک آپ میدانِ عمل میں موجود نہ ہوں مذاکرات کی میز پر آپ کو نشست نہیں مل سکتی۔ ہم بلاشبہ مذاکرات، سافٹ پاور کے عناصر، ‘سخت ڈپلومیسی’ کے ذرائع اور ضرورت پڑنے پر حقیقی طاقت کے استعمال کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا دفاع کریں گے۔ ”

"شمالی شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی اپنے نیٹو اتحادی اور تزویراتی شراکت دار امریکا سے ایسے اقدامات چاہتا ہے جو اس کے حقیقی اتحادی ہونے کے شایانِ شان ہوں، صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اپنے اتحادیوں کے شانہ بشانہ یا تنہا دونوں صورتوں میں اپنی قومی بقاء کو درپیش تمام خطرات کو مٹانے کا حق رکھتا ہے اور مزید کہا کہ "شمالی شام میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔”

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ترکی اس عمل کو جاری رکھے گا جو اس نے آپریشن فرات شیلڈ اورآپریشن شاخِ زیتون کے ذریعے شروع کیا تھا، اور جلد ہی اسے اگلے مرحلے تک لے جائے گا، صدر نے کہا کہ "اس لیے ہم ایک پرامن علاقہ قائم کرنا چاہتے ہیں کہ جہاں ہمارے شامی بھائی اور بہنیں امن، خوشحالی اور تحفظ کے احساس کے ساتھ رہ سکیں۔”

"ترکی کی سالمیت کا مطلب ہے نیٹو اور ہمارے پورے خطے کی سالمیت”

"ترکی کی سالمیت کا مطلب ہے نیٹوبلکہ پورے خطے کی سالمیت،” صدر ایردوان نے کہا۔ "ایسے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں کہ S-400 نیٹو یا F-35 طیاروں کو نقصان پہنچائے گا۔” کئی نیٹو اور یورپی یونین اراکین کی جانب سے روس سے ایسے ہی ڈیفنس سسٹم خریدنے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر نے زور دیا کہ ” جو دوسرے ممالک کے لیے مسئلہ نہیں، ہم اسے ترکی کے لیے ایک بحران میں تبدیل ہوتا مسئلہ نہیں بنانا چاہتے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ S-400 پر ترکی کے مغرب کے ساتھ تعلقات پر سوال اٹھانا ہی غلط ہے۔ ترکی نے S-400 کے معاملے میں اپنی سالمیت کے حوالے سے کوئی تزویراتی نہیں بلکہ کمرشل پسند کی ہے۔”

"ہم اپنے قبلہ اول اور آنکھوں کی ٹھنڈک القدس کو قابض طاقتوں کے رحم و کرم پر کبھی نہیں چھوڑیں گے”

"ہم مسئلہ فلسطین میں انصاف و برابری کا آخر تک دفاع کریں گے،” صدر نے کہا۔ "ہم اپنے قبلہ اول اور آنکھوں کی ٹھنڈک القدس کو قابض طاقتوں کے رحم و کرم پر کبھی نہیں چھوڑیں گے۔ مشرقی بحیرۂ روم کا استحکام مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ اور یورپ کی سلامتی کے لیے بہت اہم ہے۔ قبرص اور مشرقی بحیرۂ روم میں استحکام تبھی آ سکتا ہے جب ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبصر کے حقوق اور مفادات کو تسلیم کیا جائے۔”

ترک دنیا کے ساتھ تعلقات دوبارہ مضبوط ہوئے ہیں اور افریقہ کے ساتھ تعلقات میں رفتار مزید جاری رہے گی، یہ کہتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ جنوب مشرقی ایشیا اور بحر الکاہل خطے کی خارجہ پالیسی میں اہمیت ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔ صدر نے مزید کہا کہ ترکی "ایشیاازسرِ نو” نامی پالیسی کے نفاذ کا منصوبہ بنا رہا ہے۔”

"دہشت گردوں کو رنگ، نظریات یا نسلی شناخت کی بنیاد پر سمجھنے کی غلط فہمی دور کرلینی چاہیے”

نیوزی لینڈ اور سری لنکا میں عبادت گاہوں کو حملہ بنانے والے دہشت گردی کے واقعات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ "امریکا میں ہونے والے وحشیانہ حملے پوری دنیا کو نسل پرستانہ دہشت گردی کی اصل صورت دکھا چکے ہیں۔ دہشت گردوں کو رنگ، نظریات یا نسلی شناخت کی بنیاد پر سمجھنے کی غلط فہمی دور کرلینی چاہیے۔”

تبصرے
Loading...