مشرقی بحیرۂ روم کے حالات کے پیشِ نظر ترکی کو بحری طاقت میں اضافہ کرنا ہوگا، ایردوان

0 339

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم اور دنیا کے حالات نے ثابت کیا ہے کہ ترکی کو اپنی بحری طاقت میں لازماً اضافہ کرنا ہوگا۔

جنگی بحری جہاز ‘TCG کینالیادا’ کی حوالگی کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران صدر ایرودان نے ترک بحریہ اور اس جنگی جہاز کی تیاری اور پیداوار میں شریک ہر فرد کا شکریہ ادا کیاو۔

"دنیا بھر میں اور مشرقی بحیرۂ روم میں ہونے والے حالیہ واقعات نے ظاہر کیا ہے کہ ہمیں دیگر شعبوں کی طرح سمندروں میں اور مضبوط ہونا ہوگا،” صدر نے کہا۔

ایردوان نے کہا کہ کینالیادا پہلے تیار کیے گئے تین بحری جنگی جہازوں سے مختلف ہے کیونکہ یہ ترکی کے پہلے مقامی طور پر بنائے گئے بحری میزائل ATMACA سے لیس ہے۔

صدر نے کہا کہ ترکی ان 10 ممالک میں سے ایک ہے جو مکمل مقامی سطح پر بحری جنگی جہاز بناتا، تیار کرتا اور ان کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

"ہم اپنے UAVs اور ATAK ہیلی کاپٹرز کی طرح جلد ہی جنگی طیارے بنانا بھی شروع کردیں گے۔ اگر وہ سوئے ہوئے شیر کو جگاتے ہیں تو اس کے نتائج بھی انہیں بھگتنا پڑیں گے،” ایردوان نے ترکی اور امریکا کے درمیان F-35 کے معاملے پر ہونے والے تنازع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔

صدر نے کہا کہ ترکی کا ہدف 2023ء تک دفاعی معاملات میں خود کفیل بننا ہے۔

TCG کینالیادا کی تیاری کا آغاز 2015ء میں ہوا تھا جو MILGEM (قومی جہاز) منصوبے کے آٹھ بحری جہازوں میں سے چوتھا جہاز ہے۔ TCG کینالیادا 99.5میٹر (326 فٹ) طویل، 14.4 میٹرز عریض اور 2400 ٹن کا وزن رکھتا ہے۔ عملے کے کُل 106 اراکین کینالیادا پر تعینات کیے جائیں گے جو پانیوں میں 54 کلومیٹرز فی گھنٹے کی رفتار حاصل کر سکتا ہے۔

استنبول کے پرنس جزائر سے موسوم چاروں بحری جہاز ترک مسلح افواج کے استنبول نیوی شپ یارڈ کمانڈ کے حوالے کیے گئے۔

ترکی کے اہم دفاعی کانٹریکٹر ATMACAکی طرف سے بنایا گیا جدید گائیڈڈ اینٹی شپ میزائل کسی بھی موسم میں استعمال کیا جا سکتا ہے اور ساکن اور حرکت کرتے دونوں اہداف کے خلاف مؤثر ہے جس میں جوابی اقدامات، ہدف کو اپڈیٹ کرنے، دوبارہ حملہ کرنے اور منسوخی کی صلاحیتیں کے ساتھ ساتھ جدید روٹنگ سسٹم (3D روٹنگ) بھی شامل ہے۔

تبصرے
Loading...