ترکی نے نہ کبھی شہریوں کا قتلِ عام کیا ہے اور نہ کبھی کرے گا، صدر ایردوان

0 456

آق پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ "شہری آبادی کے قتلِ عام کی تہمت وہ بڑا الزام ہے جو آج ہمارے خلاف جاری مہم میں لگایا جا رہا ہے۔ ترکی نے اپنی تاریخ میں نہ کبھی شہری آبادی کا قتلِ عام کیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کرے گا۔ نہ ہی ہمارا دین ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے، نہ ہماری ثقافت اور نہ ہماری اخلاقی اقدار۔”

انصاف و ترقی (آق) پارٹی کے چیئرمین رجب طیب ایردوان نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کیا۔

"شہری آبادی کے قتلِ عام کی تہمت وہ بڑا الزام ہے جو آج ہمارے خلاف جاری مہم میں لگایا جا رہا ہے۔ ترکی نے اپنی تاریخ میں نہ کبھی شہری آبادی کا قتلِ عام کیا ہے اور نہ ہی کبھی ایسا کرے گا۔ نہ ہی ہمارا دین ہمیں اس بات کی اجازت دیتا ہے، نہ ہماری ثقافت اور نہ ہماری اخلاقی اقدار۔” طیب ایردوان نے کہا۔

شام میں ترکی کے جاری آپریشن چشمہ امن کا موضوع چھیڑتے ہوئے صدر طیب ایردوان نے اس آپریشن کے یہ اہداف بتائے:

1۔ ترکی کُردوں، عربوں یا شام کےکسی بھی دوسرے گروہ کو نشانہ نہیں بناتا۔ دہشت گرد اس آپریشن کا واحد ہدف ہیں۔ ترکی شام پر قبضہ کرنے یا اس پر حملہ آور ہونے کے کسی عمل میں شامل نہیں، بلکہ وہ دہشت گردی کے خلاف ایک آپریشن کر رہا ہے۔ ہم شامی عوام کے خلاف نہیں لڑ رہے ہیں۔ ہم شامی عوام کے ساتھ مل کر ظالموں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

2۔ ترکی ابتداء سے ہی آپریشن کے علاقوں میں موجود داعش کے اراکین کو پکڑنے کی ذمہ داری لینے کی بات کرتا آیا ہے۔ البتہ PKK/YPG دہشت گرد تنظیم، جن کی چند حلقے مسلسل پشت پناہی کر رہے ہیں، نے ہمیں بلیک میل کرنے کے لیے ان داعش اراکین کو رہا کرنا شروع کردیا ہے۔ ہم اپنے ملک کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے والے داعش کے اراکین کو کسی نہ کسی طرح قابو کر لیں گے۔ باقی معاملات سے ان علاقوں کی انتظامیہ نمٹے گی۔ ہم جن علاقوں پر کنٹرول حاصل کریں گے وہاں داعش کے اراکین کا خاتمہ کریں گے اور ساتھ ہی PKK/YPG کے اراکین کا بھی۔

3۔ ترکی شام کی علاقائی سالمیت اور سیاسی اکائی کا احترام کرتا ہے۔ ملک میں جب تمام گروہوں کی نمائندہ قانونی حکومت قائم ہو جائے گی تو ہم یہ علاقے چھوڑ جائیں گے کہ جو ہم نے ان کے لیے محفوظ بنائے۔ جب تک یہ علاقے دہشت گردوں کے قبضے میں ہیں تب تک شام کی جانب سے نکالا گیا کوئی بھی لفظ یا کوئی بھی اٹھایا گیا قدم کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

4۔ آپریشن چشمہ امن جاری رہے گا جب تک ہم 30 سے 35 کلومیٹر کی گہرائی تک نہیں پہنچ جاتے، جس کا ہم پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ منبج سے عراقی سرحد تک کا پورا علاقہ ہوگا۔ اس معاملے پر نہ کوئی استثنا ہے، نہ الجھن اور نہ ہی کوئی سودا کیا جائے گا۔ اس راستے پر جو ہمارا ساتھ دے رہے ہیں ہم ان کو بھی ذہن میں رکھ رہے ہیں اور وہ بھی جو اس راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔

5۔ ہم 10 سے 20 لاکھ شامی باشندوں کی ان علاقوں میں واپسی کے عمل کو آسان بنانے کے لیے فوری کام شروع کر رہے ہیں کہ جن کو ہم محفوظ بنا چکے ہیں۔ ہم نے اس منصوبے میں مدد کے لیے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے۔ یہ پوری دنیا کی ذمہ د اری ہے کہ اس کام میں ہماری مدد کرے کہ ہم شامی باشندوں کو ان مصائب سے نجات دلائیں جن میں وہ پچھلے 8 سالوں سے جکڑے ہوئے ہیں۔

6۔ ترکی کافی تجربہ اور دانش رکھتا ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے اور اگر آپ کریں بھی تو ان کا نتیجہ صفر نکلے گا۔ وہ جو سالوں تک دہشت گردوں کے شانہ بشانہ رہے مذاکرات کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن ہمارا اس راستے پر جانا کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔”

تبصرے
Loading...