ترکی ڈنمارک کے پرانے ایف-16 خریدنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، ذرائع

0 844

ڈنمارک 2025ء سے اپنے 43 میں سے 24 ایف-16 لڑاکا طیارے ریٹائر کر کے فروخت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ ملک کو جدید ایف-35 طیارے مل جائیں گے۔ ایک ایسے وقت میں جب مقامی میڈیا ترکی کو ممکنہ خریدار کے طور پر پیش کر رہا ہے، ذرائع ان دعووں کو مسترد کر رہے ہیں۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈنمارک کے اہلکار گزشتہ چار ماہ سے امریکی ریاست ایریزونا میں نئے لڑاکا طیاروں کو جانچنے کا کام کر رہے ہیں۔

ڈنمارک نے 2016ء میں 27 ایف-35 لڑاکا طیارہ کے لیے معاہدے پر دستخط کیے تھے کہ جن 2027ء تک فراہم کیا جائے گا۔

اس موضوع پر ڈینش ریڈیو پر بات کرتے ہوئے ڈنمارک کی وزارت دفاع سے وابستہ لیفٹیننٹ کرنل کیسپر بورگ نیلسن نے کہا کہ "اگلے سال سے ہم ابتدائی آٹھ طیارے فروخت کرنا شروع کر دیں گے۔ قسمت ساتھ رہی تو ہمیں ایسا خریدار مل جائے گا جس کی منظوری بھی مل سکے۔”

ایف-35 معاملہ، ترکی اور امریکا میں ڈیڈلاک ختم ہو سکتا ہے

چند اداروں نے یہاں ترکی کو ان پرانے ایف-16 طیاروں کا ممکنہ خریدار بتایا ہے کہ جن کی ابھی 10 سال کی زندگی باقی ہے۔ البتہ ترک دفاعی ذرائع نے ان دعووں کو مسترد کر دیا ہے۔

ترکی نے چند ماہ قبل امریکا سے 40 ایف-16 طیارے خریدنے اور ساتھ ہی اپنے 80 طیاروں کو جدید تر بنانے کی درخواست کی تھی اور اس سلسلے میں سرمایہ ملک کے ایف-35 لڑاکا طیاروں کی مد میں دیے گئے اربوں ڈالرز سے حاصل ہوگا۔ ترک حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ اگر واشنگٹن نے اس پیشکش کا منفی جواب دیا تو ترکی متبادل پر غور کرے گا۔

ترکی ایف-35 طیاروں کے لیے 1.4 ارب ڈالرز ادا کر چکا تھا جب واشنگٹن نے اسے روسی ساختہ ایس-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کی وجہ سے پابندیوں کا نشانہ بنایا اور ایف-35 منصوبے سے نکال دیا۔

انقرہ نے بارہا نے اس سرمائے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس رقم کو ایف-16 طیاروں کی خریداری کی مد میں استعمال کیا جائے گا۔

تبصرے
Loading...