ترکی،فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو ممبرشپ پر ویٹو پاور رکھتا ہے

0 1,096

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی، فن لینڈ اور سویڈن کی ممکنہ نیٹو رکنیت کے حوالے سے پیش رفت کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے لیکن اس کے بارے میں کوئی سازگار رائے نہیں رکھتا ہے۔ انہوں نے یہ بات میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے اس اقدام کو غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکی، فن لینڈ اور سویڈن کی نیٹو اتحاد میں شمولیت کا مثبت خیر مقدم نہیں کرے گا۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم اس بات کوئی مثبت رائے نہیں رکھتے۔ اسکینڈے نیویا کے ممالک دہشت گرد تنظیموں کے لیے ایک گیسٹ ہاؤس کی مانند ہیں۔” اصدر ایردوان نے اس بات کا اشارہ دیا کہ ترکی مغربی فوجی اتحاد کے رکن کے طور پر اپنی حیثیت کو استعمال کرتے ہوئے ان دو ممالک کی شمولیت پر ویٹو اقدام کر سکتا ہے۔

صدرایردوان نے کہا کہ ترکی کے سابق حکمرانوں نے 1952ء میں یونان کی نیٹو کی رکنیت کو گرین لائٹ دے کر "غلطی” کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ ہم بطور ترکی اس معاملے پر دوسری غلطی نہیں کرنا چاہتے۔

یوکرائن پر روسی حملہ کے بعد، فن لینڈ کی سیاسی اور عوامی رائے ڈرامائی طور پر نیٹو رکنیت بننے کے حق میں بدل گئی ہے۔ فن لینڈ اور سویڈن نے طویل عرصے سے نیٹو کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ وہ جلد اس اتحاد میں شامل ہونے کا قابل ہو جائیں گے تاہم ترکی کی مخالف رکاوٹ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

فن لینڈ کی جانب سے نیٹو کی رکنیت کے لیے درخواست دینے کا منصوبہ کے بعد، جس کا اعلان جمعرات کو کیا گیا ہے، اور جس کی سویڈن بھی پیروی کرے گا، مغربی فوجی اتحاد کی توسیع کا باعث بنے گا جس پر روسی صدر ولادیمیر پوتن بہت حساس واقع ہوتے ہوئے یوکرائن پر چڑھ دوڑے تھے۔

اگرچہ ترکی نے عموماً فن لینڈ کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے ہیں، لیکن شمالی شام میں کردوں کے دہشت گرد گروہ کے خلاف ترکی کی سرحد پار کارروائیوں پر کھل کر اعتراض کرتے ہوئے، PKK کی شامی شاخ YPG کو اسکینڈینیوین ملک کی حمایت کی وجہ سے اس کے سویڈن کے ساتھ اختلافات ہیں۔

جولائی 2020ء میں، ترکی نے سویڈن کے وزیر خارجہ اور دہشت گرد گروپس YPG/PKK، PKK کی شامی شاخ کے ارکان کے درمیان ایک ویڈیو میٹنگ کی مذمت کی تھی۔ ترک وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ یہ واقعہ ” دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سویڈن کے نقطہ نظر پر سنگین سوالیہ نشان اٹھاتا ہے۔”

دوسری طرف ترکی کو ان دو ممالک کی رکنیت پر منانے کے لیے امریکہ سرگرم ہو گیا ہے۔ اور وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا ہے کہ ترکی کے اعتراضات کو سنجیدگی سے سنا جائے گا اور دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ترجمان جین ساکی نے کہا ہے کہ جوبائیڈن انتظامیہ اس سلسلے میں ایردوان انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

 

تبصرے
Loading...
%d bloggers like this: