مشرقی بحیرۂ روم میں اپنا مشن ختم نہیں کیا، ترک وزیر خارجہ

0 131

وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے مشن سے قدم پیچھے نہیں ہٹا رہا اور تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش کا کام کرنے والا بحری جہاز ‘عروج رئیس’ معمول کی مرمت کے لیے انطالیہ کے ساحل پر لنگر انداز ہوا ہے۔

پیر کو ایک براہ راست نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘یاوُز’ اور ‘باربروس’ ڈرل شپ علاقے میں اپنا کام جاری رکھیں گے جبکہ عروج رئیس مرمت کے مراحل سے گزرے گا۔

مولود چاؤش اوغلو نے یہ بھی کہا کہ ترکی یونان کے ساتھ مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کے معاملے پر یورپی یونین سے پابندیاں کی توقع نہیں کرتا، لیکن انہوں نے یہ ضرور کہا کہ اس بلاک نے مسئلے پر انقرہ کے بجائے ایتھنز اور یونانی قبرص کا ساتھ دیا۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ "فرانس، یونان اور یونانی قبرص پابندیاں چاہتے ہیں۔ بلاک 24 یا 25 ستمبر کو اس معاملے پر فیصلہ کر سکتا ہے، جس پر مجھے امید نہیں ہے کہ کوئی پابندی لگے گی۔ ایسے معاملات ماضی میں بھی ہو چکے ہیں۔”

فرانسیسی صدر پر تنقید کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانسیسی صدر قابو سے باہر ہیں اور یورپی یونین کی رکن ریاستیں ترکی کی دلیل کو سمجھنا شروع ہو گئے ہیں۔ انہوں نے یونان پر بھی اعتراض کیا اور زور دیا کہ وہ اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے۔ "یونان کو مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے انتہا پسندانہ نظریات ترک کرے، جبکہ یونانی قبرص ترک قبرص کے حقوق تسلیم کرے۔”

انہوں نے کہا کہ جن ملکوں کو اپنے دلائل پر اعتماد ہو وہ مذاکرات کی میز پر آئیں، لیکن انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یونان کے مطالبات ایسے ہی جاری رہے کہ ترکی کی بھی مذاکرات سے پہلے شرائط ہوں گی۔ انہوں نے یونانی وزیر اعظم کے مذاکرات کے مطالبے کو آگے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔

ترک وزیر خارجہ نے امریکا پر بھی تنقید کی کہ جس نے دہائیوں سے یونانی قبرص کو اسلحہ فروخت کرنے پر عائد پابندیاں اٹھا دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کو حالیہ دورۂ قبرص میں ترک قبرص بھی آنا چاہیے تھا۔

ترک ساحل کے قریب واقع چھوٹے چھوٹے یونانی جزائر کو بنیاد بناتے ہوئے ایک خصوصی اقتصادی زون (EEZ) کی ایتھنز کی خواہش کی انقرہ نے ہمیشہ مخالفت کی کیونکہ یہ ترکی کے مفادات کو زک پہنچاتے ہیں حالانکہ وہ بحیرۂ روم میں سب سے طویل ساحلی پٹی رکھتا ہے۔ انقرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ جزیرہ قبرص کے قریب واقع توانائی وسائل ترک جمہوریہ شمالی قبرص اور یونانی قبرص کے مابین منصفانہ انداز میں تقسیم ہونے چاہئیں۔

تبصرے
Loading...