مظلوم مصری نوجوان کی استنبول ائیرپورٹ سے ہی واپسی، تحقیقات شروع، 8 پولیس اہلکار معطل

0 833

مصر میں جابر حکمران عبد الفتاح سیسی کے جبر کا نشانہ بننے والے مصری نوجوان کی استنبول آمد اور ڈپورٹ کرنے کے معاملے پر ترکی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حسین نامی مصری نوجوان جو اخوان المسلون کا ممبر بتایا جاتا ہے۔ مصری میڈیا کے مطابق وہ جولائی 2017ء مصری پراسیکیوٹر پر ہونے والے حملے میں ملوث تھا اور اسے 28 افراد کو قتل کرنے کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔

گورنر استنبول کے دفتر سے جاری ایک بیان کے مطابق "معاملے کا جائزہ لینے کے لیے ڈپٹی گورنر کی قیادت میں ایک کمشین تشکیل دیا گیا ہے جو مصری نوجوان محمد عبد الحفیظ احمد حسین کو اس کے ملک واپس بھیجنے کی تحقیقات بھی کرے گا”۔

بیان میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تحقیقاتی افسر کی سفارش اور گورنر کی منظوری کے ساتھ، اتاترک ایئر پورٹ میں پاسپورٹ کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے شعبہ سیکیورٹی سے آٹھ پولیس افسران کو معطل کر دیا گیا ہے۔

حسین کو 18 جنوری کو مصر واپس بھیجا گیا جب وہ بغیر ویزا کے صومالیہ سے استنبول کے مرکزی ائیرپورٹ "اتاترک ائیرپورٹ” پر پہنچا تھا۔ ذرائع کے مطابق اس نے ائیرپورٹ پر سیکیورٹی اہلکاروں کو سیاسی پناہ دینے کی درخواست کی تھی۔

واقعہ نے ترکی اور مصر کے تعلقات میں مزید خلفشار پیدا کردیا ہے جو 2013ء میں منتخب مصری صدر محمد مرسی کی معزولی کے بعد پیدا ہوا تھا۔ ترکی، مصر کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کی معزولی کا سخت ناقد ہے اور مصری فوجی مارشل لاء کو قبول نہیں کرتا۔

استنبول گورنر کے دفتر نے مزید کہا ہے کہ جب حسین استنبول ائیرپورٹ پر آیا اس وقت اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں کہ اسے کہیں مقدمے کا سامنا ہے اور اس نے بھی اس وقت کسی حفاظت کی درخواست نہیں کی۔ جس کی وجہ سے سیکیورٹی نے اسے ناقابل قبول مسافر سمجھ لیا کیونکہ اس کے پاس ترکش ویزا نہیں تھا۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان کے مشیر یاسین آکتائے  نے کہا ہے کہ یہ انتہائی غلط تھا کہ کسی کو مصر میں مقدمے کا سامنا تھا اور اسے واپس بھیج دیا گیا، اس معاملہ کو چیک کرنا چاہیے کہ ایسا کیوں ہوا ہے”۔

ترک خبر رساں ینی شفق نے یاسین آکتائے کے حوالے سے کہا ہے کہ "ترکی (مصری صدر عبد الفتاح) السیسی کے ہوتے ہوئے ایسی کسی شخص کو مصر کے حوالے کرتا ہے اور نہ کرے گا جس کو موت کی سزا سنائی گئی ہو یا اس پر کسی قسم کا سیاسی مقدمہ درج ہو”۔

مصری نیشنل سیکیورٹی سروسز کے ذرائع کے مطابق حسین کی واپسی پر اس سے تفتیش کی گئی اور جیل میں منتقل کر دیا گیا۔

 

تبصرے
Loading...