دفاعی صنعت میں تعاون کے ساتھ پاک ترک تعلقات عروج پر

0 117

ترکی اور پاکستان کے مابین تعلقات دفاعی صنعت میں تعاون کے ساتھ حالیہ چند سالوں میں اپنے عروج پر پہنچ گئے ہیں۔

مشترکہ تحقیقی منصوبوں، عسکری تربیت اور پاکستان کی جانب سے ترکی سے مختلف دفاعی مصنوعات کی خریداری سے دونوں ملکوں کی دوستی مزید گہری ہو گئی ہے کہ جو اُن کے لیے قومی و علاقائی سلامتی میں کردار ادا کرنا ممکن بنائے گی۔

ترکی نے اپنی جغرافیائی حیثیت اور خطے میں ہونے والی حالیہ پیشرفت سمیت دیگر عوامل کی وجہ سے اس شعبے میں واضح پیش رفت دکھائی ہے، اور پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کے ساتھ دفاعی شعبے میں اپنے قدم آگے بڑھائے ہے۔ یہ اظہر من الشمس ہے کہ دفاعی شعبے میں دوسرے ملکوں پر انحصار ایک بڑی رکاوٹ بھی بن سکتا ہے۔ دفاعی صنعت میں ترکی کے آگے بڑھنے سے پاکستان اس کے ایک اہم شراکت دار کے طور پر اُبھرا ہے۔

انقرہ میں پاکستان کے سفیر سائرس سجاد قاضی نے کہا کہ "ویسے تو ہمارے تعلقات صدیوں پرانے ہیں اور کئی شعبہ جات پر محیط ہے لیکن دفاعی شعبہ حالیہ چند سالوں میں دونوں ملکوں کے مابین تعاون کا ایک اہم شعبہ بن کر ابھرا ہے۔ دونوں ممالک علاقائی و بین الاقوامی مسائل پر ایک جیسی رائے رکھتے ہیں، خاص طور پر علاقائی سلامتی کو بہتر بنانے کے اپنے خدشات کے حوالے سے۔ ”

انقرہ اور اسلام آباد نے حالیہ چند سالوں میں دو طرفہ دفاعی تعاون کو بہتر بنایا ہے۔ اکتوبر 2018ء میں پاک بحریہ نے کراچی میں ترک دفاعی ادارے کے تعاون سے 17,000 ٹن کا ایک فلیٹ ٹینکر بنایا۔ یہ کراچی کی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس میں بننے والا تاریخ کا سب سے بڑا جہاز تھا۔ اس منصوبے کی تکمیل ترک دفاعی ادارے STM کے تعاون سے مکمل ہوئی۔

جولائی 2018ء میں انقرہ نے پاک بحریہ کے لیے چار چھوٹے بحری جنگی جہاز کے لیے کئی ارب ڈالرز کا سودا حاصل کیا۔ اس وقت کے ترک وزیر دفاع نور الدین جانکلی نے اسے ترکی کی دفاعی صنعت کی تاریخ کا سب سے بڑا سودا قرار دیا تھا۔

جنوبی ایشیا تزویراتی تحقیقاتی مرکز (GASAM) کے سربراہ جمال دیمر نے ہوا بازی، خلاء، ہتھیار، گولا بارود، جنگی جہازوں، فوجی گاڑیوں، الیکٹرانکس اور فوجی ملبوسات کی تیاری کو دفاعی صنعت میں تعاون کے لیے اہم شعبے قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ انقرہ اور اسلام آباد کی گہری دوستی کو دیکھا جائے تو ان شعبوں میں تعاون اب بھی اپنی حقیقی صلاحیتوں سے کہیں ہے۔

سفیرِ پاکستان نے بتایا کہ فریقین ہائی-لیول ملٹری ڈائیلاگ گروپ (HLMDG) کے ادارہ جاتی میکانزم کے تحت تعاون کر رہے ہیں تاکہ تعلقات کو مزید بہتر بنایا جائے اور تعاون کے مزید شعبے تلاش کیے جائیں۔

دریں اثناء، انقرہ پاکستان سے MFI-17 سپر مشاق ہوائی جہاز خرید رہا ہے، ساتھ ہی تین پاکستانی آبدوزوں کو اپ گریڈ کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ طور پر ایک فلیٹ ٹینکر بھی بنا رہا ہے۔ ترکی مقامی طور پر بنایا گیا T129 ہیلی کاپٹر ATAK بھی پاکستان کو برآمد کرے گا۔ دونوں ممالک نے جولائی 2018ء میں 36 ایسے ہیلی کاپٹرز کی فروخت کے معاہدے کو حتمی صورت دی تھی۔ دفاعی ادارے ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (TAI) نے امریکی حکام کو لائسنس کے لیے درخواست دے رکھی ہے تاکہ پاکستان کو ہیلی کاپٹر برآمد کر سکے۔ TAI اس وقت پہلا مقامی ہیلی کاپٹر انجن بنانے پربھی کام کر رہا ہے۔

سجاد قاضی نے کہا کہ "دونوں ملکوں کا بڑھتا ہوا دفاعی تعاون مسلسل اعلیٰ سطحی دوروں، بڑے دفاعی معاہدوں، عسکری تعلیم و تربیت میں تعاون اور ساتھ ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں اور اہلکاروں کے تبادلے سے ہی ظاہر ہے۔”

سفیر نے کہا کہ اس وقت کئی مشترکہ منصوبے جاری ہیں، جن کے ساتھ پاکستان ترکی کے بڑے دفاعی شراکت داروں میں سے ایک بن گیا ہے۔ ساتھ ساتھ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (R&D) پروگراموں اور مشترکہ پیداوار کے منصوبوں کے امکانات تلاش کرنا بھی بہت اہم تھا۔

صدر رجب طیب ایردوان جمعرات کو دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچے ہیں، جس میں وہ ملک کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے۔ یہ صدر ایردوان کا پاکستانی پارلیمان سے چوتھا خطاب ہوگا، اور وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے واحد غیر ملکی رہنما ہیں۔ یہ ایردوان کا 10 واں دورۂ پاکستان ہے، جو انقرہ اور اسلام آباد کے مضبوط تعلقات کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان میں 17 ترک ادارے ہیں جبکہ ترکی میں 233 پاکستانی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ پاکستان اور ترکی کے مابین تجارتی حجم پچھلے پانچ سالوں میں تقریباً 600 ملین ڈالرز سے بڑھ کر 800 ملین ڈالرز تک پہنچا ہے۔

دورۂ پاکستان میں ترکی کی 60 کاروباری شخصیات بھی صدر مملکت کے ہمراہ ہیں جو ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کریں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ دونوں ملک آزاد تجارت کے معاہدے (FTA) پر دستخط کریں۔

انقرہ کے لیے پاکستانی سفیر نے مزید کہا کہ "عزت مآب صدر ایردوان کا دورۂ پاکستان نہ صرف اپنے خطوں میں امن و استحکام کی دونوں ملکوں کی خواہش کا اعادہ کرے گا بلکہ تعاون کے کئی نئے شعبوں کی تلاش کا موقع بھی دے گ۔ اس دورے میں دفاع کے شعبے پر خاص توجہ ہوگی۔”

تبصرے
Loading...