مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کے اسرائیلی مطالبے کی ترکی و فلسطین کی جانب سے شدید مذمت

0 491

ترکی اور فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کے مطالبے پر کڑی تنقید کی ہے۔

ترک وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی اسرائیل کے پبلک سکیورٹی وزیر گیلا داردان کی جانب سے تاریخی مسجد کی حیثیت تبدیل کرنے کا مطالبہ "مکمل طور پر رد کرتا ہے۔”

ایک بیان میں فلسطینی پریزیڈنسی نے بھی اردان کے مطالبے کی مذمت کی ہے۔ "ہم تناؤ کو بڑھانے اور فلسطینی، عرب اور اسلامی اقوام کے احساسات کو بھڑکانے والے بیانات کی مذمت کرتے ہیں” ۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ مسجد کی حیثیت ریڈ لائن جیسی ہے اور اس کی حالت میں کوئی بھی تبدیلی ناقابلِ قبول ہوگی۔ بیان میں مقبوضہ القدس کے مذہبی مقامات، خاص طور پر مسجد اقصیٰ، کے معاملے میں حالیہ اشتعال انگیزی اور حملوں کا ذمہ دار بھی اسرائیلی حکومت کو ٹھیرایا گیا۔

فلسطین نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل ایسے اقدامات جاری رکھتا ہے تو حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں اور ان کے بہت سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ "ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے اسرائیل کو ایسے اقدامات سے باز رکھنے کے لیے دباؤ میں لائے۔”

منگل کواسرائیلی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے اردان نے کہا تھا کہ "میرے خیال میں 1967ء سے موجود کی حالت مبنی بر انصاف ہے۔ ہمیں اسے تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل کے یہودی خدائی مدد سے ٹیمپل ماؤنٹ پر عبادت کر سکیں۔”

اسرائیل نے 1967ء کی عرب-اسرائیل جنگ میں مشرقی یروشلم پر قبضہ کیا تھا کہ جہاں مسجد اقصیٰ بھی واقع ہے۔ 1980ء میں بین الاقوامی برادری کی مخالفت کے باوجود اسرائیل نے پورے شہر پر قبضہ کرلیا تھا، جسے وہ خود ساختہ طور پر یہودی ریاست کا "دائمی اور اٹوٹ” دارالحکومت قرار دیتا ہے۔

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے مکہ اور مدینہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہودی اس مقام کو "ٹیمپل ماؤنٹ” کہتے ہیں جو ان کے دعوے کے مطابق زمانہ قدیم میں دو یہودی معبدوں کا مقام تھا جبکہ مسلمان اسے حرمِ قدسی شریف کہتے ہیں۔

تبصرے
Loading...