ترکی اور پولینڈ میں ہجرت، دفاع اور تجارت پر مذاکرات

0 51

پولینڈ کے صدر آندرے دودا نے ملک کے دورے پر آئے ہوئے ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو سے ملاقات کی ہے۔

ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں مولود چاؤش اوغلو نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے "دوست اور اتحادی” دودا سے مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے بات چیت کی ہے۔

"ہماری تزویراتی شراکت داری مزید گہری ہو رہی ہے اور تجارت، دفاعی صنعت اور غیر قانونی مہاجرت پر تعاون کے ساتھ مزید مضبوط ہوگی۔”

پولینڈ کو بیلاروس سے بڑھتی ہوئی غیر قانونی مہاجرت کا سامنا ہے اور وہ موشن سینسر اور کیمروں کی مدد سے اپنی سرحدوں کو مضبوط کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے، جس کی بنیاد ترکی کے ساتھ یونانی سرحد کی طرز پر رکھی جا رہی ہے۔

قبل ازیں چاؤش اوغلو نے پولش ہم منصب زبگنیو راؤ سے ملاقات کی۔ ترک وزیر خارجہ نے مہمان نوازی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

ٹوئٹر پر انہوں نے کہا کہ "ہر شعبے میں اپنے تعلقات کو بہتر بنا رہے ہیں۔ 10 ارب ڈالرز کے تجارتی ہدف کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ غیر قانونی ہجرت کے خلاف تعاون کو بڑھائیں گے۔”

چاؤش اوغلو پیر کو پولینڈ کے دارالحکومت وارسا پہنچے تھے جہاں وہ دو طرفہ مذاکرت کے علاوہ 7 ویں وارسا سکیورٹی فورمو میں شرکت کریں گے۔

اپنے دورے میں انہوں نے ترکی اور پولینڈ کے مابین تزویراتی شراکت داری کو خطے میں امن و ترقی کی ضمانت قرار دیا۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ دو طرفہ تجارتی حجم، جو رواں سال 8 ارب ڈالرز سے تجاوز کر جائے گا، جلد ہی 10 ارب ڈالرز کے ہدف کو بھی حاصل کر لے گا۔

"ہم باہمی سرمایہ کاری کی اہمیت کو بھی سمجھتے ہیں، اور یہ کہ ترکی اگلے چند سالوں میں پولینڈ سے سیاحت بھی بڑھتے ہوئے 15 لاکھ افراد تک پہنچنے کا خواہاں ہے۔”

نیٹو میں اتحادی تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے چاؤش اوغلو نے کہا کہ ترک ایف-16 لڑاکا طیاروں مالبورک بیس پر تعینات کیے گئے ہیں جو نیٹو کی ایئر پولیسنگ کوششوں کا حصہ ہیں اور میری ٹائم پٹرول طیارہ پولینڈ کی جانب سے نیٹو کے مشن کے لیے ترکی میں آیا جو دونوں ملکوں کے مابین یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔

اس کے علاوہ پولینڈ نے مئی میں ترکی سے 24 عدد بیراکتار TB2 مسلح ڈرونز خریدنے کے تاریخی معاہدے پر بھی دستخط کیے تھے۔ یہ ڈرون یوکرین، قطر اور آذربائیجان کو فروخت کیا گیا ہے لیکن یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نیٹو یا یورپی یونین کے رکن ملک نے ترکی سے یہ ڈرونز حاصل کیے ہوں۔

تبصرے
Loading...