کیا ترکی نے نریندر مودی کو عظیم رہنما قرار دیا؟

0 15,277

ترکی اور پاکستان کے برادرانہ تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ جہاں بہت سے لوگ اسے اسلامی اخوت کی بہترین مثال سمجھتے ہیں وہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو جھوٹ اور پروپیگنڈا کا سہارا لیتے ہوئے اس کی نفی کے لیے عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ یہ کوششیں بھارت جیسے ملک میں بیٹھے شرپسندوں کی جانب سے نئی یا غیر متوقع نہیں لیکن اب پاکستان میں نفرتوں کے بیوپاری بھی من گھڑت اور سنی سنائی پر مبنی خبروں اور تبصروں کو ترویج دینے لگے ہیں۔ اس کی ایک مثال گزشتہ دنوں نریندر مودی کے اعزاز میں ٹکٹ کے اجرا اور انہیں دنیا کا عظیم ترین رہنما قرار دینے والے معاملے سے لی جاسکتی ہے۔

نریندرا مودی کے ٹکٹ کو بنیاد بنا کر کہا جانے لگا کہ ترکی نے بھارتی وزیر اعظم کو عظیم ترین لیڈر قرار دے دیا جبکہ اس کا حقیقت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ترکی نے G20 سمٹ کے موقع پر اس میں شریک تمام ممالک کے سربراہان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیے۔ ان ہی میں ایک ٹکٹ نریندر مودی کی تصویر والا بھی ہے جس کی قیمت 2.80 ترکش لیرا ہے۔ یہ ڈاکٹ ٹکٹ ترک صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے G20 سمٹ میں شریک رہنماؤں کو پیش کیے گئے۔

ptt stamps g20 antayla
رجب طیب ایردوان چینی صدر شی جن پنگ کو ڈاک ٹکٹ پیش کر رہے ہیں

یورپین یونین اور دنیا کے 19 بڑے اور طاقتور ترین ملکوں کے سربراہان سمیت کل 33 سربراہوں کی تصاویر والی ڈاک ٹکٹ جاری کیے گئے۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی 15 اور 16 نومبر کو اس سمٹ میں شرکت کی تھی۔ علاوہ ازیں اس سمٹ میں امریکی صدر براک اوباما، روسی صدر ولادی میر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ، برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون، آسٹریلوی وزیراعظم میلکولم ٹرن بال، برازیلی صدر ڈیلما روسیف، کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈیو، جرمن چانسلر اینجلا میرکل، جاپانی وزیراعظم شینزوابے اور یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک بھی شریک تھے۔ اگرچہ اس سمٹ میں فرانسیسی صدر فرینکوئس ہولینڈ نے پیرس میں قتل و غارت کے واقعے کے باعث شرکت نہیں کی تھی لیکن اس کے باوجود ان کے اعزاز میں بھی ڈاک ٹکٹ جاری کیا گیا تھا۔

تبصرے
Loading...