ترکی نے 700,000 روہینگیا مسلمانوں تک مدد کا ہاتھ بڑھایا

0 1,436

اپنے گھروں میں میانمار حکومت کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے لاکھوں روہینگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش کی طرف ہجرت کی۔ گذشتہ سال ترک صدر رجب طیب ایردوان کی کال پر ترک رفاعی اداروں نے حکومتی اور عوامی مدد کے ساتھ روہینگیا مسلمانوں کا سہارا بننے کی کوشش کی۔ ترکی اب تک تقریباً 700000 روہینگیا مسلمانوں تک امدادی سامان پہنچا چکا ہے۔

چیریٹیز، حکومتی رفاہی اداروں اور انفرادی طور پر ترکوں نے روہینگیا کمیونٹی کے لیے کیمپس، ہاسپتال، پانی کے کنوے اور دستی امدادی سامان پہنچایا۔ ایک سال میں تقریباً 2000 ٹن غذائی پیکجز روہینگیا مسلمانوں کے ہاتھوں تک پہنچائے گئے۔ 165000 روہینگیا مسلمانوں نے ترک ذرائع سے طبی امداد حاصل کی جبکہ 300000 ظلم و ستم سے ماؤف ہو جانے والے افراد کو نفسیاتی امداد دی گئی جو غربت، فوجی جبر اور میانمار میں ان پر ہونے والے ظلم کا نشانہ بنے تھے۔

روہینگیا کمیونٹی آہستہ آہستہ نئی زندگی کی جانب لوٹ رہی ہے، بمبو بانس کے گھر بنانے میں ترکوں نے ان کی مدد کی ہے اور وہ نئے گھروں میں پرانی تلخ یادوں کو بھلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

2017ء ہونے والے ظلم و ستم کی لہر نے بڑے پیمانے پر روہینگیا مسلمانوں کو متاثر کیا۔ ایک ہفتے میں تقریباً 400 مسلمانوں کو شہید کیا گیا جبکہ 2600 سے زائد گھر جلا دئیے گئے۔ اس مختصر وقت میں 73000 مزید روہینگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش میں پناہ لی۔

ترکی ہمیشہ سے روہینگیا مسلمان کی آواز رہا ہے اور دنیا کو ان کی جانب متوجہ کرتا آیا ہے۔ روہینگیا مسلمانوں کے بڑی تعداد میں بے گھر ہونے کے بعد ترک رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد میں رفاہی اداروں سے رابطہ کیا اور کیمپوں میں جا کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا، دوسری طرف ترک عوام نے چند دنوں میں لاکھوں ترک لیرا ان رفاہی اداروں کی جھولی میں ڈال دئیے۔

ترک سرکاری ادارہ برائے باہمی رابطہ و تعاون (ٹیکا) دنیا کی واحد تنظیم ہے جو میانمار کے اندر مسلمانوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ ان کے ساتھ ساتھ اے ایف اے ڈی، ترک ہلال احمر، دیانت فاؤنڈیشن کے علاوہ کئی این جی اوز بنلگہ دیش اور دیگر ممالک میں موجود روہینگیا مسلمانوں کی انسانی امداد جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تبصرے
Loading...