قبرص میں تیل کی تلاش پر امریکی بیان ‘حقائق سے پرے’ ہے: ترکی

0 1,848

انقرہ نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے قبرص کے ساحل سے دور تیل کی تلاش کے فیصلے پر ترکی کو از سرِ نور غور کرنے کا بیان دراصل "حقائق سے پرے ہے۔”

ترکی کی وزارتِ امورِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی کا کہنا ہے کہ ترکی ایسے علاقے میں تیل کی تلاش کا ارادہ رکھتا ہے جس پر یونانی قبرص کا دعویٰ ہے، بظاہر یہ دلالت کرتا ہے کہ بین الاقوامی قانون سے قطع نظر یونانی قبرص کا علاقے پر قانونی حق ہے۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ مورگن اورٹاگس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "امریکا ترکی کی جانب سے ایسے علاقے میں آف شور ڈرلنگ آپریشنز شروع کرنے کے ارادوں پر سخت تشویش میں مبتلا ہے کہ جس پر خصوصی اقتصادی علاقے کی حیثیت سے جمہوریہ قبرص کا دعویٰ ہے۔” اورٹاگس نے ترکی کے اس قدم کو "اشتعال انگیز” قرار دیا اور کہا کہ یہ خطے میں تناؤ بڑھائے گا۔ ہم ترک حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس سے باز آئیں اور تمام فریقین کو سے چاہیں گے کہ وہ اشتعال میں آنے کے بجائے ضبط سے کام لیں۔”

ترک وزارتِ خارجہ نےجواب میں کہا ہے کہ ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے ارادوں سے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو عرصہ دراز سے آگاہ کرتا آیا ہے۔ وزارت نے زور دیا کہ جزیرہ قبرص کے گرد براعظمی کناروں کے استعمال کے لیے بین الاقوامی قوانین کے مطابق تمام فریقین کے درمیان ایک شفاف معاہدہ ابھی تک نہیں ہوا۔ "جب تک ایسے کسی معاہدے کو حتمی صورت نہیں دی جاتی، کسی تیسرے فریق کی جانب سے بحری سرحدوں کو طے کرنے کے لیے از خود بین الاقوامی عدالت کا روپ دھار لینا ناقابلِ قبول ہے۔” وزارت نے کہا۔

ترکی کے ڈرلنگ اور سیسمک جہاز ترک حکومت کی جانب سے ترکش پٹرولیم (TP) کو 2009ء اور 2012ء میں دیے گئے لائسنس کے تحت ترکی کے براعظمی کناروں کے ان علاقوں میں کھوج جاری رکھیں گے جہاں ان کو اجازت دی گئی ہے۔ "جب تک یونانی قبرص ترک قبرص کو ہائیڈروکاربن وسائل کے حوالے سے فیصلہ سازی کے عمل سے دور رکھے گا، ترک قبرص اپنے حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا،” بیان میں کہا گیا۔

ترکی کے پہلے ڈرل شپ فاتح نے مشرقی بحیرۂ روم میں جمعے کو دوسرے کنویں کی کھدائی شروع کی تھی اور یہ عمل 3 ستمبر تک جاری رکھے گا۔ ڈرل شپ جمعے کی صبح جنوبی ترکی کی بندرگاہ انطالیہ سے تین سپورٹ جہازوں اور ایک جنگی جہاز کے ساتھ جزیرہ قبرص کے مغرب میں خصوصی اقتصادی زون کے لیے روانہ ہوا تھا۔

ترک وزارت خارجہ نے کہا کہ ترکی خطے میں تیل و گیس کے ذخائر تلاش کے دوران بین الاقوامی قوانین کی ہمیشہ پیروی کرتا آیا ہے۔ وزارت یورپی یونین کے خارجہ پالیسی سربراہ کی جانب سے ترکی کی مشرقی بحیرۂ روم میں ہائیڈروکاربن کے متوقع ذخائر کی تلاش کے لیے جاری سرگرمیوں پر تبصرے کا جواب دے رہی تھی۔ ایک تحریری بیان میں وزارت خارجہ نے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور و سکیورٹی پالیسی فیڈریچا موگیرینی کے بیان کو مسترد کیا کہ جس میں انہوں نے ترکی کو جزیرہ قبرص کے کناروں پر تیل و گیس کی تلاش کے لیے اپنے منصوبوں سے باز رہنے کو کہا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ترکی بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے حق کو استعمال کرتے ہوئے ڈرلنگ کرے گا۔

مزید برآں، وزارت خارجہ نے بتایا کہ یونانی قبرص کی انتظامیہ ترک قبرص کے حقوق کا لحاظ نہ کرکے اور ترکی کے انتباہ کے باوجود تعاون سے انکار کرکے مشرقی بحیرۂ روم میں امن و سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ یورپی یونین کو، جو معاملے کو حل کرنے کے لیے مضبوط اقدامات اٹھانے میں ناکام رہی ہے، ترکی کے بارے میں کچھ کہنے کا حق نہیں ہے۔ ترکی نے بارہا یونانی قبرص کی انتظامیہ کی جانب سے مشرقی بحیرۂ روم میں ڈرلنگ کی یکطرفہ سرگرمیوں پر اعتراض کیا ہے، جس کے دوران ایگزون، ٹوٹل اور ENI جیسی امریکی، فرانسیسی اور اطالوی کمپنیوں کی خدمات تک حاصل کی گئیں۔

بحیرہ روم کا جزیرہ قبرص 1974ء سے تقسیم ہے جب یونانی قبرص کی جانب سے بغاوت کے بعد جزیرے کے ترکوں کے خلاف تشدد کا بھرپور استعمال کیا گیا اور انقرہ کو ضامن طاقت کی حیثیت سے مداخلت کرنا پڑی۔

قبرص کے معاملے پر مذاکرات 2004ء میں اقوام متحدہ کے عنان منصوبے کے تحت دوبارہ شروع ہوئے تھے تاکہ ترک اور یونانی قبرص کی برادریوں کو دوبارہ متحد کیا جائے۔ لیکن جزیرے کا معاملہ اب بھی غیر حل شدہ ہے جبکہ مئی 2015ء میں مذاکرات کے مختلف مراحل بھی ہوئے۔ حالیہ سالوں میں امن کی جانب کوئی پیشرفت نہیں ہوئی، جن میں تازہ ترین کوشش گزشتہ سال کرانس مونٹانا، سوئٹزرلینڈ میں ترکی، یونان اور برطانیہ جیسے ممالک ضامن کے طور پر شریک ہوئے، لیکن اس کوشش کو بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔

تبصرے
Loading...