ترکی لیبیا میں فوجی بھیجنے کے لیے تیار ہے، نائب صدر

0 262

اگر اقوام متحدہ کی منظور شدہ حکومت درخواست کرتی ہے تو ترکی لیبیا میں ترک فوجی بھیجنے کے لیے ضروری اقدامات اٹھانے کو تیار ہے، نائب صدر فواد اوقتائی نے کہا۔

"اگر ہمارے لیبیائی بھائی درخواست کرتے ہیں، تو ترکی وہ سب کرنے کو تیار ہے جو ضروری ہے،” اوقتائی نے استنبول میں تجارت و تعاون کے حوالے سے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔

27 نومبر کو انقرہ اور طرابلس نے نے مفاہمت کی دو یادداشتوں پر اتفاق کیا، جس میں ایک عسکری تعاون پر ہے جبکہ دوسری مشرقی بحیرۂ روم میں ملکوں کی بحری سرحدوں کے حوالے سے ہے۔

عسکری تعاون کے معاہدے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ اگر طرابلس حکومت درخواست کرتی ہے تو ترکی لیبایا فوجی بھیجنے پر غور کر سکتا ہے۔

معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور ان کی موت کے بعد لیبیا میں طاقت کے دو مراکز بن گئے۔ ترکی اور قطر، ساتھ ہی اٹلی بھی طرابلس میں قائم سراج کی حکومت کے ساتھ ہیں جبکہ خلیفہ ہفتار، جو مشرقی لیبیا میں موجود افواج کی کمان کرتے ہیں، کو فرانس، روس اور اہم عرب ممالک کی حمایت حاصل ہے، جن میں مصر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب شامل ہیں۔

4 اپریل کو ہفتار کی فوجوں نے طرابلس پر قبضے کے لیے جارحیت کا آغاز کیا۔ ہفتار کی اپریل میں کی جانے والی کوششوں نے ابتدائی طور پر کچھ علاقے حاصل کیے لیکن وہ ایک خونریز لڑائی میں دارالحکومت کے کناروں تک ہی محدود رہ گئے۔

اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق 4 اپریل کو شروع ہونے والی لڑائی میں 284 شہری مارے گئے اور 363 زخمی ہوئے جبکہ 1،40،000 لیبیائی شہری بے گھر ہونے پر مجبور ہوئے۔

حکومت لیبیا کی جانب سے ترکی کے ساتھ معاہدے کے بعد اقوام متحدہ کے مشن برائے لیبیا (UNSMIL) نے ایک مرتبہ پھر تنازع کے سیاسی حل پر زور دیا۔

اوقتائی کا تبصرہ اس وقت آیا ہے جب لیبیا کی اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ حکومت کی جانب سے پانچ "دوست ممالک” سے فوجی معاہدے کرے کے بعد آیا ہے کیونکہ وہ دارالحکومت پر قبضے کرنے والی افواج کو دور کرنا چاہتا ہے۔

طرابلس میں قائم حکومت کے وزیر اعظم فیض سراج نے امریکا، برطانیہ، اٹلی، الجزائر اور ترکی کو خط لکھے جن میں سکیورٹی تعاون کے معاہدے متحرک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

صدر رجب طیب ایردوان پہلے ہی لیبیا میں روس کے حمایت یافتہ جنگجوؤں کی مبینہ موجودگي پر تنقید کرکے سراج کی حکومت کی مدد کا اعادہ کر چکے ہیں۔ "ہمارے لیے یہ صحیح نہیں ہوگا کہ ہم اس صورت حال میں خاموش تماشائی بنے رہیں۔ ہم اب تک جو کر سکے ہیں کیا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی کریں گے۔”

تبصرے
Loading...