مشرقی بحیرۂ روم میں ہر وہ قدم اٹھائیں گے جس کی ضرورت ہوگی، ترک وزیر خارجہ

0 927

ترک وزیرِ خارجہ نے یونان کو مشرقی بحیرۂ روم میں کوئی بھی غلط قدم اٹھانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترکی خطے میں اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے ہر وہ قدم اٹھائے گا جس کی ضرورت ہوگی ۔

مولود چاؤش اوغلو نے یہ کلمات انقرہ میں اپنے جرمن ہم منصب ہیکو ماس کے ہمراہ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں ادا کیے۔ دونوں وزرائے خارجہ نے ملاقات میں COVID-19 کی وباء، لیبیا میں ہونے والی پیش رفت اور خاص طور پر مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔

انہوں نے یونان پر زور دیا کہ وہ چند ملکوں کے کہنے میں آ کر مشرقی بحیرۂ روم میں "خود کو خطرے میں نہ ڈالے” بلکہ اسے معقول اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ خطے میں کوئی تنازع نہ بچے۔

انہوں نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا لیکن یونان نے حال ہی میں فرانس اور مصر کے ساتھ مل کر ترکی کی بحری خارجہ پالیسی کے خلاف کام کیا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے زور دیا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں حالیہ کشیدگی یونان اور یونانی قبرص کی انتظامیہ کی وجہ سے اس نہج تک پہنچی ہے، ترکی کی وجہ سے نہیں۔ انہوں نے خطے میں یونان کی فوجی مشقوں کو اس کی مثال قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی مشرقی بحیرۂ روم کے معاملے پر خطے کے تمام ممالک کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہیں – سوائے یونانی قبرص کے کہ جسے وہ تسلیم نہیں کرتا۔ انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات کے لیے ترکی کوئی شرط نہیں رکھتا۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ یونان یورپی یونین کی بے جا حمایت کی وجہ سے بگڑا ہے۔ وہ بین الاقوامی قانون کی پیروی کا مطالبہ کرتا ہے حالانکہ وہ خود انہی قوانین کو توڑ رہا ہے۔

یونان میں ترک اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک کے حوالے سے چاؤش اوغلو نے کہا کہ حالانکہ انسانی حقوق کی یورپی عدالتیں فیصلہ دے چکی ہے کہ مغربی تھریس کے ترک خود کو "ترک” کہلوا سکتے ہیں لیکن ایتھنز نے اب تک اس کی اجازت نہیں دی، جو ان فیصلوں کی خلاف ورزی ہے اور یورپی یونین اس معاملے پر یونان پر دباؤ بھی نہیں ڈال رہی۔

نیوز کانفرنس کے دوران ماس نے کہا کہ مشرقی بحیرۂ روم میں کشیدگی کسی کے لیے سازگار نہیں، نہ ہی یورپی یونین کے لیے اور نہ ترکی اور یونان کے لیے۔

ترکی بحیرۂ روم کے ساتھ سب سے طویل ساحلی پٹی رکھنے والا ملک ہے اور اپنے براعظمی کنارے (continental shelf) میں تیل و گیس کی تلاش کے لیے بحری جہاز بھیج رہا ہے کیونکہ اس کا کہنا ہے کہ علاقے پر ترکی اور ترک جمہوریہ شمالی قبرص دونوں کا حق ہے۔

تبصرے
Loading...