ترکی نہیں، فرانس دہائیوں سے لیبیا اور افریقہ میں "خطرناک کھیل” کھیل رہا ہے، ترکی کی فرانسیسی صدر کے بیان کی مذمت

0 3,101

ترکی کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ فرانس نے ترکی کے جائز حقوق کو نظرانداز کرکے مشرقی بحیرہ روم میں کشیدگی میں اضافہ کیا ہے

ترکی نے منگل کے روز بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ لیبیا کی حکومت کے لئے ترکی کی حمایت کے بارے میں فرانسیسی صدر کے حالیہ تبصرے پر مذمتی بیان جاری کیا ہے۔

ایک بیان میں، ترک وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آک سوئے نے کہا کہ ایمانوئل میکرون نے لیبیا کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے لئے ترکی کی حمایت کو ایک "خطرناک کھیل” قرار دینے کی وضاحت یہی ہو سکتی ہے کہ "اس کی کوئی دلیل نہیں” ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مشرقی بحیرہ روم میں ترکی کے جائز حقوق کو نظرانداز کرنے اور اپنے ” زیادہ سے زیادہ پانے کے عزائم” کی حمایت کرنے کی صورت فرانس خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کے بجائے تناؤ کو بڑھا رہا ہے۔

پیرس پر لیبیا کے انتشار میں ملوث ہونے کا الزام لگاتے ہوئے ، آک سوئے نے کہا کہ یہ ترکی نہیں ، بلکہ فرانس دہائیوں سے لیبیا اور افریقہ میں ایک "خطرناک کھیل” کھیل رہا ہے۔

انہوں نے فرانس اور میکرون پر زور دیا کہ وہ لیبیا ، شام اور مشرقی بحیرہ روم کی سلامتی اور مستقبل کو خطرے میں ڈالنے سے باز آجائے اور اس کے بجائے بات چیت کے موجود چینلز کو استعمال کرے۔

پیرس میں تیونس کے صدر قیص سعید سے ملاقات کے بعد، فرانسیسی صدر میکرون نے فرانس، مصر، متحدہ عرب امارات اور روس کے حمایت یافتہ باغی جنگجو جنرل خلیفہ حفتر کے مقابلے میں لیبیا کی حکومت کی حمایت کرنے پر ترکی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

لیبیا کو سنہ 2011 میں مرحوم حکمران معمر قذافی کے اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے خانہ جنگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ملک کی نئی حکومت کی تشکیل اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک معاہدے کے تحت سن 2015 میں ہوئی تھی ، لیکن حفتر کے باغیانہ فوجی حملے کی وجہ سے طویل المدت سیاسی تصفیے کی کوششیں ناکام ہو گئیں۔

اقوام متحدہ نے فیاض السراج کی سربراہی میں لیبیا کی حکومت کو اس ملک کا جائز اختیار تسلیم کیا ہے کیونکہ طرابلس نے حفتر کی ملیشیا کا مقابلہ کیا ہے۔

لیبیا حکومت نے دارالحکومت طرابلس پر حفتر کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مارچ میں حفتر کے خلاف آپریشن طوفانِ امن کا آغاز کیا تھا، اور حال ہی میں مغربی لیبیا میں حفتر کا آخری گڑھ ترہونا سمیت قبضہ کئے گئے کئی مقامات کو آزاد کرایا ہے اور اس آپریشن میں ترکی نے باقاعدہ ایک معاہدہ کی صورت لیبیا کی مرکزی حکومت کا ساتھ دیا ہے۔

تبصرے
Loading...