ترکی میں 2019ء میں تقریباً 7 لاکھ تارکینِ وطن آئے

0 232

2019ء میں ترکی میں تارکینِ وطن کی تعداد پچھلے سال کے مقابلے میں 17.2 فیصد اضافے کے ساتھ 6,77,042 تک پہنچی۔

ترک ادارۂ شماریات (TurkStat) کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 98,554 تارکینِ وطن ترک شہری تھے کہ جو وطن واپس آئے۔ جبکہ تقریباً 5,78,488 غیر ملکی تھے۔

ترکی میں آنے والے تارکینِ وطن کی اکثریت 54.4 فیصد مرد تھے۔ عمر کے لحاظ سے سب سے زیادہ 25 سے 29 سال کے افراد سب سے زیادہ 13.3 فیصد تھے، جن کے بعد 12.2 فیصد 20 سے 24 سال کی عمر کے۔

دوسری جانب ترکی سے دیگر ممالک کو ہجرت کرنے والے افراد کی تعداد 2018ء کے مقابلے میں 2 فیصد زیادہ ہوئی اور 3,30,289 ریکارڈ کی گئی۔ تقریباً 54.5 فیصد تارکینِ وطن مرد تھے۔

ہجرت کرنے والوں میں سے 84,863 ترک شہری تھے جبکہ باقی غیر ملکی تھے جن میں 25 سے 29 سال کی عمر کے افراد 15.2 فیصد کے ساتھ سب سے زیادہ رہے۔اس کے بعد 30 سے 34 سال کی عمر کے افراد 13 فیصد اور 20 سے 24 سال کی عمر کے 12.6 فیصدرہے۔

استنبول سب سے زیادہ تارکینِ وطن رکھنے والا صوبہ بھی رہا اور سب سے زیادہ ہجرت بھی یہیں سے ہوئی۔ استنبول کے بعد دارالحکومت انقرہ اور بحیرۂ روم کے ساحل پر انطالیہ تیسرے نمبر پر رہا۔

عراقی شہری ترکی کو ہجرت کرنے والوں میں سب سے زیادہ ہیں، جو کل مہاجرین کا 14.5 فیصد ہیں۔ عراق کے بعد ترکمنستان، افغانستان، شام اور ایران رہے۔

ترکی سے ہجرت کرنے والے غیر ملکی افراد میں بھی سب سے زیادہ تعداد 23.9 فیصد عراقی باشندوں ہی کی ہے، جن کے بعد ایرانی، افغان، آذربائیجانی اور ترکمن ہیں۔

تبصرے
Loading...