ترکی میں دو دہائیوں کی سب سے کم بارش

0 224

بارشوں کی کمی سے پینے کے پانی کی دستیابی کے خدشات تو اتنا زیادہ نہیں ہوتے لیکن یہ زراعت پر بہت برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ ترکی میں یکم اکتوبر 2020ء سے 30 ستمبر 2021ء کے دوران 20 سال کی سب سے کم بارش ہوئی ہے۔ یہ وہ دورانیہ ہے جس میں زرعی سرگرمیاں سب سے زیادہ ہوتی ہیں۔ ملک کو پہلے ہی مشکلات کا سامنا ہے کہ جن کی وجہ سے خشک سالی اور آبی قلت سے نمٹنا حکومت کے ایجنڈے پر سر فہرست ہے۔

ترکی کے سرکاری محکمہ موسمیات نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جو ملک میں گھٹتی ہوئی بارشوں پر روشنی ڈالتی ہے۔ اگر طویل المیعاد سطح سے تقابل کیا جائے تو یہ 19 فیصد کی کمی ہے جبکہ 2020ء کے اسی عرصے کے مقابلے میں یہ کمی 16 فیصد تھی۔ دوسرے الفاظ میں کہیں تو فی مربع میٹر صرف 465.5 ملی میٹر بارش ہوئی، عام طور پر 575 ملی میٹر فی مربع میٹر کے مقابلے میں۔

39 فیصد کی سب سے زیادہ کمی جنوب مشرقی اناطولیہ کے علاقے میں ریکارڈ کی گئی، ایک ایسا علاقہ جو ویسے ہی اپنے خشک موسم کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ بحیرۂ اسود کے کنارے واقع ریزہ کے علاقے میں سال بھر میں سب سے زیادہ اور جنوب مشرق کے علاقے ماردین میں سب سے کم بارش ہوئی۔

کرونا وائرس کی وبا کے دوران، جس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے، زراعت خود انحصاری کے خواہش مند ممالک کے لیے بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ لیکن ملکی معیشت کے ساتھ ساتھ خشک سالی نے کاشت کاروں کے لیے سنگین مسائل کھڑے کر دیے ہیں۔ مثلاً بحیرۂ ایجیئن کے علاقے میں جہاں زیادہ تر کاشت تمباکو، زیتون، انگور، انجیر، کپاس اور نارنجیوں کی ہوتی ہے، بارش گزشتہ سالوں کی سطح سے 18 فیصد کم رہی۔ ازمیر میں زراعت و جنگلات کے شعبے کے سربراہ مصطفیٰ اوزین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں اور وہ زراعت کے لیے آبی رسد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اوزین نے کہا کہ ازمیر کو رواں سال اتنے اثرات مسوس نہیں ہوئے لیکن خطے کے تین دوسرے صوبوں مانیسا، آئیدین اور ڈینزیلی کو خشک سالوں کے ہاتھوں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے ادارے نے کاشت کاروں کے لیے خشک سالی کے حوالے سے ورکشاپس کا انعقاد کیا کہ جن میں ایسی صورت حال سے نمٹنے کے لیے شعور اجاگر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ "کاشت کار پہلے ہی دوسری فصلوں کا رخ کرنا شروع ہو گئے ہیں اور ہم ان کا رخ ان فصلوں کی طرف کر رہے ہیں جو خشک سالی کی صورت حال کے خلاف مزاحمت رکھتی ہوں اور انہیں کم پانی کی ضرورت ہو۔”

مثلاً ازمیر کے ایک ضلع منیمن میں جہاں کاشت کار کپاس کو ترجیح دیتے ہیں، اب ان کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے کہ وہ سورج مکھی اگائیں، جو ایسی فصل ہے جو خشک سالی کے حالات میں بھی بچنے کا امکان ہوتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اب اس علاقے میں سورج مکھی کی کاشت کا رقبہ 10 سے 15 ہزار ایکڑ سے بڑھ کر 55 ہزار ایکڑ تک جا پہنچا ہے۔”

تبصرے
Loading...