ترکی نے یونان کے نامعقول دعووں کو مسترد کردیا

0 295

ترک وزارت خارجہ نے براعظمی کنارے (continental shelf) کے حوالے سے یونان کے نامعقول دعوے مسترد کر دیے ہیں، جو مشرقی بحیرۂ روم میں ترک جہاز عروج رئیس کی سرگرمیوں کے نتیجے میں کیے گئے ہیں۔ ترکی نے یونان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات کے مطالبات پر غور کرے۔

ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی نے 21 جولائی 2020ء کو قدرتی وسائل کی تلاش کی طے شدہ سرگرمیاں کیں، اور ترک بحری جہاز باربروس خیر الدین پاشا پہلے بھی اسی علاقے میں ان سرگرمیوں میں شامل رہا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یونان کے دعوے بین الاقوامی قوانین، قانونی ترجیحات اور عدالتی فیصلوں کے خلاف ہیں۔ وزارت کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ "یونان کا 40,000 کلومیٹرز کے براعظمی کنارے کا دعویٰ ایک ایسے جزیرے کی بنیاد پر ہے جو اناطولیہ سے صرف 2 کلومیٹرز دور اور یونان سے 580 کلومیٹرز کے فاصلے پر ہے، اس لیے یہ دعویٰ نامعقول ہے اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔”

وزارت نے مذاکرات پر زور دیا اور کہا کہ ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرتا رہے گا۔

ایتھنز اور یونانی قبرص نے ترکی کی سرگرمیوں کی مخالفت کی ہے اور بحری جہازوں کے عملے کو گرفتار کرنے اور یورپی یونین کے رہنماؤں کو اپنا ہمنوا بنانے کی دھمکی دی ہے۔

قبرص کا جزیرہ 1974ء سے تقسیم ہے جب جزیرے کی ترک برادری کے خلاف دہائیوں تک پرتشدد کارروائیوں کے بعد یونانی قبرص نے غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کر لیا اور انقرہ کو ضامن قوت کی حیثیت سے اس معاملے میں مداخلت کرنا پڑی۔

ناروے سے 2013ء میں خریدا گیا بحری جہاز باربروس خیر الدین پاشا اپریل 2017ء سے بحیرۂ روم میں قدرتی وسائل کی تلاش کا کام کر رہا ہے۔ عروج رئیس نے اگست کے آخر میں خطے میں تلاش کی سرگرمیاں شروع کیں۔

تبصرے
Loading...