شمالی قبرص پر سلامتی کونسل کا بیان "بے بنیاد” ہے، ترکی

0 545

ترک وزارتِ خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور چند ممالک کے ان "بے بنیاد بیانات” کو مسترد کر دیا ہے کہ جن میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں وروشا یعنی مرعش کے علاقے کو دوبارہ کھولنے پر اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

اپنے بیان میں وزارت نے کہا ہے کہ ہم ترک جمہوریہ شمالی قبرص کے صدر محترم ارسین تاتار کی جانب سے مرعش منصوبے کے دوسرے مرحلے کا اعلان کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور چند ممالک کے دیے گئے بیانات کو مسترد کرتے ہیں، جو بے بنیاد دعووں پر مشتمل ہیں اور جزیرے پر زمینی حقائق کے برعکس ہیں۔”

یہ بیانات یونان اور یونانی قبرص کی ملی بھگت سے ہونے والے پروپیگنڈے اور بے بنیاد دعووں پر کھڑے ہیں، مثلاً مرعش ترک جمہوریہ شمالی قبرص میں نہیں ہے، اور یہ بھی کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص مرعش میں املاک پر قبضہ کر کے یہاں آباد کاری کرے گا۔”

اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ وروشا ترک قبرص کا حصہ ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ "شہر آبادکاری کے لیے نہیں کھولا گیا اور اسے ترک جمہوریہ کی جانب سے خیر سگالی کے طور پر وار زون قرار دیا گیا تھا۔”

ترکی نے یقین دلایا کہ ترک جمہوریہ شمالی قبرص تمام فیصلے بین الاقوامی قوانین کے تحت کی انتظامیہ کر رہی ہے۔ "دعووں کے برعکس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔”

دوسری جانب ترک جمہوریہ شمالی قبرص کی وزارتِ خارجہ نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بیانات کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ عوامی مقامات کا استعمال اور مرعش کے چند علاقوں کی ملٹری اسٹیٹس کو ختم کرنا "عین بین الاقوامی قانون کے مطابق ہے بلکہ یہ یہاں کی املاک کے مالکان کے حقوق کا تحفظ بھی کرتا ہے۔”

"یہ قابل افسوس ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے بے بنیاد دعووں پر مبنی بیان جاری کیا ہے۔”

وروشا یا مرعش کا علاقہ 8 اکتوبر 2020ء کو جزوی طور پر کھولا گیا تھا۔ 1974ء میں قبرص پر یونان کے قبضے کے خلاف ترک امن آپریشن کے بعد دہائیوں تک یہ کھنڈرات بنا رہا، لیکن اب یہ مقامی افراد کے علاوہ غیر ملکی سیاحوں کی توجہ کا مرکز بھی بنا ہوا ہے۔

جزیرہ قبرص 1974ء سے تقسیم ہے کہ جب یونان نے عالمی قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پورے جزیرے پر قبضہ کرنے کوشش کی تھی، جس کے بعد جزیرے پر موجود ترکوں کے خلاف تشدد کی زبردست لہر نے جنم لیا اور بالآخر ضامن طاقت کی حیثیت سے ترکی کو عملی مداخلت کرنا پڑی۔

حالیہ چند سالوں میں قبرص کے معاملے میں نشیب و فراز آئے ہیں، جن میں 2017ء میں سوئٹزرلینڈ میں ضامن طاقتوں ترکی، یونان اور برطانیہ کے مابین ہونے والے ناکام مذاکرات بھی شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...