ترکی نے ایس-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کے معاملے پر امریکا کو پھر ورکنگ گروپ کی پیشکش کر دی

0 297

ترکی نے ایک مرتبہ پھر امریکا کو پیشکش کی ہے کہ وہ ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دے، جس میں نیٹو بھی شامل ہو، تاکہ انقرہ کے روسی میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے پر پیدا ہونے والا تنازع حل کرنے میں مدد ملے۔

اٹلانٹک کونسل کے ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے کہا کہ مسئلے کے حل کے لیے ترکی کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ "ہم امریکا کو ایک ٹیکنیکل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی پیشکش کر رہے ہیں، اس گروپ کی قیادت نیٹو کر سکتا ہے۔ ہماری طرف سے یہ پیشکش اب بھی موجود ہے۔”

نیٹو اتحادیوں کے تعلقات میں سخت بدمزگی پیدا ہو گئی تھی جب ترکی نے پچھلے سال روس کا جدید S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم حاصل کر لیا تھا، جس کے بعد جولائی میں واشنگٹن نے ترکی کو اپنے F-35 لائٹننگ II جیٹ پروگرام سے نکال دیا تھا۔

امریکا کا کہنا ہے کہ روس اس سسٹم کے ذریعے لاک ہِیڈ مارٹن F-35 جیٹ کی خفیہ تفصیلات جان سکتا ہے اور یہ ڈیفنس سسٹم نیٹو سسٹمز سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جبکہ ترکی کا کہنا ہے کہ S-400 کو نیٹو سسٹمز میں شامل نہیں کیا جائے گا اور یہ اس الائنس کے لیے خطرہ نہیں ہوگا۔

کروناوائرس سے اس معاملے سے نظریں ہٹا دی ہیں لیکن اس سے پہلے ماسکو کے ساتھ انقرہ کے تعلقات کو سخت ٹھیس پہنچی جب شام کے قصبے ادلب میں روس کی حمایت یافتہ بشار حکومت نے جارحانہ کارروائیاں کِیں۔

5 مارچ کو انقرہ اور ماسکو نے علاقے میں فوجی سرگرمیاں بند کرنے پر اتفاق کیا۔ یہ ملاقات شامی حکومت کی افواج کی جانب سے ترک فوجیوں اور عام شہریوں پر کیے گئے حملے کے بعد ہوئی کہ جس کے نتیجے میں ترکی نے شام میں آپریشن کا آغاز کیا۔ آپریشن اسپرنگ شیلڈ 27 فروری کو شروع کیا گیا جب اسد حکومت کے ایک فضائی حملے میں ادلب میں کم از کم 34 ترک فوجی شہید ہوئے۔

زبردست لڑائی کے بعد ترکی نے واشنگٹن سے مطالبہ کیا کہ شام کی سرحد کے ساتھ پیٹریاٹ میزائل نصب کرے اور کہا کہ وہ امریکا سے بھی یہ سسٹمز خریدنے کو تیار ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے مارچ میں کہا کہ امریکا نے ترکی کو یہ سسٹم فروحت کرنے کی پیشکش کی ہے، اس وعدے پر کہ انقرہ روس کا سسٹم نہیں چلائے گا۔

تب سے اب تک امریکا اور ترکی دونوں S-400 کے معاملے پر خاموش ہیں۔

چاؤش اوغلو نے کہا کہ ترکی اب بھی پیٹریاٹ سسٹم خریدنے کو تیار ہے اگر امریکا اس کے لیے اچھی آفر کرے تو۔

امریکا اور ترکی کے درمیان پیٹریاٹس خریدنے پر ہونے والے گزشتہ مذاکرات ناکام ہوئے ہیں جن میں انقرہ کا واشنگٹن کی شرائط پر مطمئن نہ ہونا بھی شامل ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ وہ اسی صورت میں پیشکش قبول کرے گا جب اس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کے شرائط شمال ہوں۔

انقرہ نے بارہا زور دیا ہے کہ امریکا کی جانب سے پیٹریاٹس فروخت کرنے سے انکار کی ہی وجہ سے ہی اس نے روس سمیت دیگر ملکوں کا رُخ کیا اور روس نے اسے بہتر ڈیل دی جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی بھی شامل ہے۔ ترکی نے کسی بھی قسم کے تکنیکی مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دینے تک کی رائے تک پیش کی لیکن امریکا نے اس تجویز پر اب تک کوئی جواب نہیں دیا۔

انقرہ-ماسکو S-400 معاہدہ اپریل 2017ء میں ہوا تھا، جب فریقین نے دو S-400 بیٹریز کی خریداری کے لیے 2.5 ارب ڈالرز کے معاہدے پر دستخط کیے۔ S-400 روس کا جدید ترین طویل فاصلے کا اینٹی ایئر کرافٹ میزائل ڈیفنس سسٹم ہے جو 2007ء سے زیرِ استعمال ہے۔

تبصرے
Loading...