ترکی نے 35 شامی دیہات کے لیے پانی کی فراہمی بحال کر دی

0 111

ترکی نے شمالی شام کے ضلع تل ابیض کے 35 دیہات کو پانی کی فراہمی بحال کر دی ہے جسے PKK دہشت گرد تنظیم کی شامی شاخ YPG نے تقریباً ایک سال پہلے تباہ کر دیا تھا۔

اس دہشت گرد گروپ کے خلاف ترکی کے آپشن چشمہ امن اور تل ابیض اور راس العین کی آزادی کے بعد YPG نے مقامی سطح پر بجلی کا نظام تباہ کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں اردگرد کے قصبوں اور دیہات میں پانی کی فراہمی کا نظام بھی متاثر ہوا۔

تل ابیض کی مقامی کونسل میں آبی وسائل کے آفیسر انچارج سمر عیسیٰ نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ شانلی عرفہ کے ترک ایریگیشن ڈائریکٹوریٹ نے علاقے میں پانی کی فراہمی کے لیے پمپس اور الیکٹرک کنورٹرز لگائے ہیں۔

عیسیٰ نے کہا کہ 3,500 لوگ واٹر سپلائی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ دیہات اپنے روزمرہ استعمال اور کھیتی باڑی کے لیے اس پانی کا استعمال کر رہے ہیں۔

طیبہ نامی گاؤں کے رہائشی ابو محمود کہتے ہیں کہ اس سے پہلے گاؤں والوں کو 8 کلومیٹرز پیدل چل کر گھر والوں کے لیے پانی لانا پڑتا تھا۔

ترکی نے 9 اکتوبر 2019ء کو آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا تھا تاکہ دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں موجود YPG کے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کریں اور ترکی کی سرحدوں کے محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ شامی مہاجرین کی بحفاظت وطن واپسی اور شام کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کریں۔ اس آپریشن کی بدولت تل ابیض اور راس العین دہشت گردوں سے مکمل طور پر پاک ہو گئے۔

اس آپریشن کی کامیاب تکمیل کے بعد سے ترک فوج اور دیگر ادارے آزاد شدہ اضلاع میں دہشت گردی کی باقیات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں اور اسکولوں کی مرمت کا کام کر رہے ہیں اور حال ہی میں کووِڈ-19 سے بچاؤ کے لیے اقدامات بھی اٹھائے ہیں۔

تل ابیض اور راس العین دیگر آزاد شدہ علاقوں کی طرح ترک اقدامات کی بدولت اب معمول کی زندگی کی جانب رواں ہیں۔ شہریوں نے بارہا کہا ہے کہ تعمیر نو اور بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے کام کی بدولت ان کی زندگیاں بہتر ہوئی ہیں۔

تبصرے
Loading...