ادلب کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لیے ترکی و روس پیش قدمی کریں گے، روسی وزیر خارجہ

0 142

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ روس اور ترکی شمال مغربی شامی صوبہ ادلب کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لیے اپنے معاہدوں کے نفاذ پر پیش قدمی کر رہے ہیں۔

وہ دمشق میں اپنے شامی ہم منصب ولید معلم اور روس کے نائب وزیر اعظم یوری بوریسوف کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کر رہے تھے، جس میں انہوں نے کہا کہ ادلب کے علاقے میں کام "روس ترک تعاون میں اہم ترین حیثیت رکھتا ہے۔”

لاوروف نے کہا کہ دونوں ممالک ادلب میں اپنی ذمہ داریوں کی تقسیم کے حوالے سے واضح معاہدے رکھتے ہیں، جو عام، معقول حزبِ اختلاف کو دہشت گردوں سے علیحدہ سمجھنے، M4 ہائی وے کی بازیابی اور شاہراہ کے گرد سکیورٹی کوریڈور کی تیاری تجویز کرتی ہیں۔ ان پر آہستہ آہستہ لیکن باقاعدہ کام کیا جا رہا ہے۔ ہم اس کام کو مکمل کر کے رہیں گے۔”

ترکی اور روس نے، جو شام کی خانہ جنگی میں مختلف فریقین کی حمایت کرتے ہیں، 5 مارچ کو شمال مغربی صوبے ادلب میں فوجی سرگرمی روکنے پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ جب پرتشدد کارروائیاں بڑھنے سے تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہوئے اور دونوں فریقین ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہونے والے تھے۔

یہ معاہدہ ترکی کے بنیادی خدشات کی بات کرتا ہے کہ مہاجرین کی آمد اور میدان میں موجود ترک فوجیوں کی اموات کا سلسلہ روکا جائے۔

معاہدے کے تحت ترکی اور روس کی افواج شام کے مشرقی اور مغربی علاقوں کو ملانے والی M4 شاہراہ پر مشترکہ گشت کرتی ہیں اور انہوں نے اس کے دونوں جانب سکیورٹی کوریڈور بنائے ہیں۔ پہلا گشت 15 مارچ کو ہوا تھا۔

ادلب بشار اسد کی حکومت کی حامی افواج کی جانب سے عرصے سے محاصرے میں ہے، جبکہ پچھلی جنگ بندیوں کی بارہا خلاف ورزی کی گئی۔

اپریل 2018ء سے حزب اختلاف کے اس آخری گڑھ پر حملے ڈرامائی حد تک بڑھ گئے اور اس سے ترک سرحد کی جانب بڑھنے والے مہاجرین کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا جس سے ترکی ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہو گیا کیونکہ اس کے پاس پہلے ہی 37 لاکھ مہاجرین موجود ہیں۔

نتیجتاً ترکی نے شام کی سرکاری افواج کی پیش قدمی روکنے کے لیے علاقے میں دستے اور عسکری ساز و سامان اتارا۔

اس وقت ترکی کی افواج علاقے میں مقامی آبادی کے تحفظ اور مختلف دہشت گرد گروپوں کو روکنے کا کام کر رہی ہیں۔

تبصرے
Loading...