ترکی کا ساتواں سیٹیلائٹ کامیابی سے لانچ ہو گیا

0 124

اسپیس ایکس 9 کے راکٹ نے امریکی ریاست فلوریڈا کے لانچ پیڈ سے اڑان بھری اور کچھ ہی دیر بعد نئی جنریشن کے ترک کمیونی کیشن سیٹیلائٹ کو مدار میں چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھ ہی ترکی کا ساتواں سیٹیلائٹ خلاء میں پہنچ چکا ہے۔

امریکی ایروسپیس کمپنی ‘اسپیس ایکس’ کا 70 میٹر (230 فٹ) بلند راکٹ کیپ کیناویرل ایئر فورس اسٹیشن کے اسپیس لانچ کمپلیکس 40 سے لانچ ہوا تھا کہ جس میں ترکی کا ‘ترک سیٹ 5A’ سیٹیلائٹ بھی موجود تھا۔

صدر رجب طیب ایردوان نے جمعے کو بتایا کہ ترک سیٹ 5A سیٹیلائٹ کے لیے ترکی مدار میں اپنے محفوظ شدہ کا حق کا استعمال کر رہا ہے، جو 30 سال کے لیے ترکی کے پاس ہے۔

جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس اور بہتر گنجائش رکھنے والا ترک سیٹ 5A ٹیلی وژن سروسز اور بہتر براڈبینڈ ڈیٹا نیٹ ورکس فراہم کرے گا۔ جس کے لیے یہ 31 ڈگریز مشرق میں ترکی کے غیر استعمال شدہ مدار کا استعمال کرے گا۔

صدر ایردوان نے وحید الدین مینشن میں وڈیو کانفرنس کے ذریعے ‘ہفتہ سیٹیلائٹ ٹیکنالوجیز’ کے خصوصی سیشن کو بتایا کہ نئے لانچ کردہ سیٹیلائٹ کے ساتھ ہی ترکی کے خلاء میں موجود متحرک سیٹیلائٹس کی تعداد سات ہو جائے گی۔ ان میں سے تین سیٹیلائٹس کمیونی کیشنز کے لیے کام کر رہے ہیں، ترک سیٹ 3A، ترک سیٹ 4A اور ترک سیٹ 4B، جبکہ دیگر تین گوک ترک-1، گوک ترک-2 اور RASAT مشاہدے کے لیے ہیں۔

ترکی کی وزارت ٹرانسپورٹ اور انفرا اسٹرکچر کے مطابق ترک سیٹ 5A چار مہینوں میں مدار میں اپنا مقام طے کر لے گا اور 2021ء کی دوسری شش ماہی میں سروسز کا آغاز کر دے گا۔ وزارت کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک کی فریکوئنسی اور مدار کے حقوق اگلے 30 سال کے لیے محفوظ ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ سیٹیلائٹ یورپ، مشرق وسطیٰ اور افریقہ کے بڑے حصے کے ساتھ ساتھ بحیرۂ روم، ایجیئن اور بحیرۂ اسود کے علاقوں کا احاطہ بھی کرے گا۔ اس سیٹیلائٹ کے ساتھ، کہ جو وسیع اقسام کی سروسز پیش کرے گا، ہم اپنے موجودہ کمیونی کیشنز سیٹیلائٹ کو بیک اپ بھی دے رہے ہیں۔

ترکی ان 30 ممالک میں سے ایک ہے جو خلاء میں مدار کے حقوق رکھتے ہیں۔

یہ مشن 2021ء میں اسپیس ایکس کا پہلا لانچ بھی تھا اور اس کے فیلکن 9 راکٹ کا بھی۔ اس کے ساتھ ہی ایلون مسک کی کمپنی کے لیے ایک بہت مصروف سال شروع ہو چکا ہے۔

ترکی کے وزیر ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر عادل قارہ اسماعیل اوغلو نے جمعے کو بتایا کہ ترک سیٹ 5A نے لانچ کے 35 منٹ کے بعد اپنا پہلا سگنل دیا، جب سیٹیلائٹ مدار میں اپنے مقام کو طے کر رہا تھا۔ "اس سفر میں چار مہینے لگیں گے۔ جس کے بعد ہم اپنے ٹیسٹ کریں گے اور سیٹیلائٹ کو ایکٹیویٹ کیا جائے گا۔”

ترکی نے ترک سیٹ 5A اور 5B کو بنانے کے لیے عالمی ایروسپیس کمپنی ایئربس کے ساتھ 2017ء میں معاہدہ کیا تھا۔ ترک سیٹ 5A ترک سیٹ، ترکش ایروسپیس انڈسٹریز (TAI) اور ایئر بس ڈیفنس اینڈ اسپیس کے تعاون سے بنایا گیا تھا۔

‘ہفتہ سیٹیلائٹ ٹیکنالوجیز’ سے خطاب کرتے ہوئے قارہ اسماعیل اوغلو نے کہا کہ یہ لانچ عظیم مراحل کا نقیب ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ترکی سیٹیلائٹ ٹیکنالوجی میں مزید آگے جائے گا کیونکہ مستقبل خلاء میں ہے۔

ترکی 2022ء میں اپنا خود تیار کردہ سیٹیلائٹ ترک سیٹ 6A لانچ کرنے کا ہدف رکھتا ہے، جس پر انقرہ میں کام جاری ہے۔ یہ مکمل طور پر مقامی سطح پر کیا جا رہا ہے۔

تبصرے
Loading...