کرونا وائرس کی وباءکا مقابلہ کرنے کے لیے ترکی کی افغانستان کے لیے مدد

0 244

طبّی امداد کا حامل ایک ترک طیارہ جمعرات کو دارالحکومت انقرہ سے افغانستان کے لیے روانہ ہوا ہے تاکہ افغانستان کو کرونا وائرس کی عالم گیر وباء کا مقابلہ کرنے میں مدد دے سکے۔

قومی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ "صدر رجب طیب ایردوان کے حکم پر ترک مسلح افواج کا ایک طیارہ کرونا وائرس کی وباء سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے والی طبی امداد لے کر انقرہ سے افغانستان کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔”

اس ہوائی جہاز پر 10 وینٹی لیٹرز، 10 ڈیفبری لیٹرز، 10 آکسیجن ریگولیٹرز، تین عدد PCR مشینیں، 10 نیبولائزرز، کووِڈ-19 کی تشخیص کے لیے 30 ہزار RT-q PCR ڈائیگنوسٹک ٹیسٹ کٹس، 25 ہزار N95 فیس ماسک اور 50 ہزار سرجیکل اور عام فیس ماسک لادے گئے ہیں، جن کے ہر ڈبے پر افغانستان کے عوام کے لیے ایک پیغام موجود ہے جو دراصل 13 ویں صدی کے صوفی شاعر مولانا جلال الدین رومی کے الفاظ ہیں کہ ہر مایوسی کے بعد ایک امید کی کرن اور اندھیرے کے بعد کئی سورج ہیں۔

ترکی جس نے گزشتہ دہائی میں انسانی امداد کے کام میں بڑا نام حاصل کیا ہے، اور کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی بین الاقوامی کوششوں میں بھی نمایاں کردار ادا کیا ہے۔

ترکی وباء کے منظرِ عام پر آنے سے اب تک 125 ممالک کو امداد دے چکا ہے جن میں امریکا، برطانیہ، اٹلی اور اسپین بھی شامل ہیں اور یوں وباء کے دوران امداد فراہم کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک بنا۔

یہ عالمی وباء اب تک 4,16,200 افراد کو موت کے گھاٹ اتار چکی ہے جبکہ متاثر ہونے والے افراد کی کُل تعداد 73 لاکھ سے زیادہ ہے۔ 34 لاکھ افراد اس مرض سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...