کروناوائرس کے خلاف مدد کے لیے ترکی کی صومالیہ کے لیے امداد

0 272

ترکی نے کروناوائرس کی وباء سے نمٹنے میں صومالیہ کی مدد کے لیے ترکی میں بنے نئے وینٹی لیٹرز اور طبی امداد پر مشتمل شپمنٹ بھیج دی ہے۔

جدید ٹیکنالوجی سے بنے وینٹی لیٹرز صدر رجب طیب ایردوان کے الفاظ میں "صومالی بھائیوں کے لیے زندگی بنیں گے۔”

انہوں نے کہا کہ امداد بھیجنا تہذیب کی علامت نہیں بلکہ ضمیر کی آواز ہے، اور ترک قوم مظلوم اور ضرورت مند لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے اور اسے اپنے ضمیر کی آواز بھی سمجھتی ہے۔

اپنے وینٹی لیٹرز خود بنانے کی کوششوں کا ثمر پچھلے مہینے حاصل ہوا، جس کے بعد کروناوائرس کے خلاف ان اہم آلات سے محروم صومالیہ وہ پہلا ملک بن گیا ہے کہ جسے یہ وینٹی لیٹرز بھیجے جا رہے ہیں۔

صدر کے حکم پر یہ امداد قومی وزارتِ دفاع، وزارتِ صحت اور وزارتِ صنعت و ٹیکنالوجی نے تیار کی کہ جسے دارالحکومت انقرہ کے فوجی ہوائی اڈے سے روانہ کیا گیا۔

امداد میں 5,000 انتہائی نگہداشت کے وینٹی لیٹرز بھی شامل ہیں کہ جنہیں ترک اداروں بایوسِس، بے قار، اسیل سان، آرجہ لِک نے تیار کیا ہے جبکہ مرض کی تشخیص کے لیے کٹس، حفاظتی لباس اور چہرے کے ماسکس بھی امداد کا حصہ ہیں۔

امدادی سامان کے ڈبوں پر ترک صدارتی نشان کے ساتھ ساتھ ترکی اور صومالیہ کے پرچم بھی چھپے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی 13 ویں صدی کے عظیم صوفی شاعر مولانا رومی کے یہ الفاظ بھی درج ہیں کہ "مایوسی کے اُمید ہے اور ہر اندھیرے کے بعد کئی اجالے ہیں۔”

تبصرے
Loading...