خطے میں عمل داری کے اُصول ترکی متعین کرتا ہے، صدر ایردوان

0 622

لندن میں ترک شہریوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا کہ "ترکی میں امن، سلامتی اور سکون ہے۔ آج کا ترکی 17 سال پہلے کے ترکی سے کہیں زیادہ طاقتور ہے۔ آج کا ترکی کسی کو اپنے خلاف باآسانی سازشیں بنانے نہیں دے رہا بلکہ خطے میں عمل داری کے اصول متعین کر رہا ہے اور سازشوں کو ناکام بنا رہا ہے۔ آج ایک ترکی ایک کشادہ دل اور فیاض ملک ہے جو چند ارب ڈالرز کی بھیک نہیں مانگتا بلکہ قومی آمدنی کے تناسب سے دنیا میں سب سے زیادہ انسانی امداد فراہم کرتا ہے۔”

نیٹو رہنماؤں کے اجلاس کے لیے لندن میں موجود صدر رجب طیب ایردوان نے برطانیہ میں ترک و اسلامی برادری کے اراکین سے خطاب کیا۔

"شامی سرزمین کے حوالے سے ترکی کوئی خفیہ منصوبہ نہیں رکھتا”

صدر ایردوان نے ترکی کو اپنی معیشت اور ٹرانسپورٹ انفرا اسٹرکچر کے علاوہ بحیرۂ ایجیئن، بحیرۂ اسود اور مشرقی بحیرۂ روم میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ایک طاقتور بحریہ کا حامل ملک قرار دیا اور کہا کہ ترکی اب تک 30 ارب ڈالرز سے زیادہ اُن 40 لاکھ مظلوم و معصوم شامی مہاجرین پر خرچ کر چکا ہے جو اپنے ملک میں خانہ جنگی کی وجہ سے ترکی میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

صدر ایردوان نے کہا کہ "کچھ لوگ ہمیں کہتے ہیں کہ شام چھوڑ دو۔ ان سے تو ہم یہی پوچھیں گے کہ "تمہارا یہاں کیا کام ہے؟” جی ہاں، ہم وہاں وجود رکھتے ہیں اور تب تک وہ علاقہ خالی نہیں کریں گے جب تک کہ اسے دہشت گردوں سے پاک نہ کر لیں۔ شامی سرزمین کے حوالے سے ترکی کوئی خفیہ منصوبہ نہیں رکھتا لیکن جو ایسے ارادے رکھتے ہیں انہیں ضرور شام چھوڑ دینا چاہیے۔”

"ترکی اور برطانیہ کے مابین 400 سال پرانے تعلقات ہیں”

ترکی اور برطانیہ کے مابین تعلقات کو 400 سال سے زیادہ قدیم قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے طویل المیعاد باہمی تعاون میں مزید اضافے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے پہلوؤں پر عمل کو سراہا۔

برطانیہ میں 5 لاکھ سے زیادہ متحرک اور جفاکش ترک برادری کی موجودگی پر توجہ دلاتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "ہم ملک سے باہر پچھلے 15، 20 سال کے مقابلے میں آج کہیں زیادہ منظم اور مؤثر آبادی رکھتے ہیں۔ ترک برادری ترکی اور برطانیہ کے مابین تعلقات میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔”

"آپ ‘دہشت گردی’ کے ساتھ کبھی ‘اسلامی’ نہیں لگا سکتے”

"اسلامی دہشت گردی” کی اصطلاح کو غلط قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اسلام امن کا مذہب ہے۔ آپ امن کے مذہب کو کبھی دہشت گردی سے نہیں جوڑ سکتے۔ آپ ‘دہشت گردی’ کے ساتھ کبھی ‘اسلامی’ نہیں لگا سکتے۔ میں اس اصطلاح کے استعمال کرنے والوں کی مذمت کرتا ہوں۔”

یورپ میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی، امتیازی سلوک، یہود مخالفت اور اسلام مخالفت سے خبردار کرتے ہوئے صدر وایردوان نے زور دیا کہ دائیں بازو کے شدت پسند زیادہ تر مسلمانوں اور ترکوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

"نیو-نازی تنظیمی امن، سلامتی اور انسانیت کے مستقبل کے لیے داعش اور PKK جتنی ہی خطرناک ہیں،” صدر ایردوان نے زور دیا کہ ان تنظیموں کے خلاف بھی اسی عزم کے ساتھ لڑنا چاہیے جیسا کہ داعش اور القاعدہ جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف لڑے۔”

تبصرے
Loading...