جمہوریہ ترکی ماضی کی راکھ سے ایک پُرعزم قوم کو ازسرنو زندہ کرنے کی خوبصورت مثال ہے، ایردوان

0 321

جمہوریہ ترکی کے یوم بنیاد پر ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "جمہوریہ ترکی ماضی کی راکھ سے ایک پُرعزم قوم کو ازسرنو زندہ کرنے کی خوبصورت مثال ہے، جو اپنے وقار اور آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے بجائے موت کو ترجیح دیتی ہےـ ترک ملت نے اپنے خون اور روح کے ساتھ 29 اکتوبر 1923ء کو پوری دنیا کے سامنے اعلان کیا تھا کہ اس کی رائے کو اب جکڑا نہیں جا سکے گا اور نہ کوئی اس کے مستقبل میں دخل اندازی کر سکے گا”-

ترک صدر نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ "آج ہم بطور ترک ملت اپنی تاریخ کے ایک اہم سنگ میل کی خوشیاں منا رہے ہیں جب ہم نے جمہوریہ ترکی کا اعلان کیا تھا- میں چاہتا ہوں کہ اس یوم جمہوریہ کو وہ ترک شہری بھی منائیں جو ملک سے باہر رہتے ہیں”-

جمہوریہ ترکی ماضی کی راکھ سے ایک پُرعزم قوم کو ازسرنو زندہ کرنے کی خوبصورت مثال ہے

انہوں نے کہا: "میں اس موقع پر اپنے ان عظیم سپاہیوں کے لیے دعاء کرتا ہوں کہ اللہ ان پر رحمت اور فضل فرمائے جنہوں نے ہزاروں سال تک ہماری اس ماں دھرتی کے تحفظ کے لیے غنچہ نورس کی طرح شہید ہوتے رہے”- پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ "میں اپنے تمام فوجی غازیوں، خاص طور پر بانی جمہوریہ غازی مصطفیٰ کمال اور جنگ آزادی کے تمام کمانڈروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں”-

ایردوان نے کہا کہ جمہوریہ ترکی ماضی کی راکھ سے ایک پُرعزم قوم کو ازسرنو زندہ کرنے کی خوبصورت مثال ہے، جو اپنے وقار اور آزادی پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے بجائے موت کو ترجیح دیتی ہےـ

ترک ملت نے 29 اکتوبر 1923ء کو اعلان کیا تھا کہ اس کی رائے کو جکڑا نہیں جا سکے گا

پیغام میں مزید کہا گیا ہے: "رک ملت نے اپنے خون اور روح کے ساتھ 29 اکتوبر 1923ء کو پوری دنیا کے سامنے اعلان کیا تھا کہ اس کی رائے کو اب جکڑا نہیں جا سکے گا اور نہ کوئی اس کے مستقبل میں دخل اندازی کر سکے گا وہ ترک قوم کی بہادری، عزم اور لڑائی کے نتیجے میں تباہ ہو گئے جو عثمانی سلطنت کی وراثت کو لوٹنے کے لیے اناطالیہ پر ٹوٹ پڑے تھے جسے کبھی وہ "مردبیمار” کہتے نہیں تھکتے تھے۔ وہ واپس پلٹا دئیے گئے جہاں سے نکلے تھے۔ وہ روح آج بھی زندہ ہے جس سے ترک آزادی کی جنگ لڑی گئی اور جس سے یہ جمہوریہ ترکی وجود میں آیا۔ کیونکہ یہ صرف 94 سال پہلے کی بات ہے۔

"پندرہ جولائی کی غداری کےمقابل  شاندار مزاحمت اس روح کی موجودگی کا مظہر ہے جب 250 شہیدوں اور 2193 زخموں کی قیمت پر اس رات، ترکی کے تمام شہری بمشول جوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور مردوں  نے جمہوریہ کے ثمرات کا تحفظ کیا۔ ہمیں اس عظیم اور بہادر قوم کا حصہ ہونے پر فخر ہے جس کے اندر آج بھی آزادی کا کردار جاگ رہا ہے ہم اس ماٹو کے ساتھ ‘یہاں کوئی حاکم نہیں، یہاں صرف قوم کے لیے خدمت ہے’ کے ساتھ اپنے ملک و قوم کی بلاتمیز خدمت کرنے کے لیے دن اور رات محنت کرتے ہیں

ترکی دنیا کے تمام مظلوموں کے لیے امید کا دروازہ ہے

گزشتہ 15 سالوں میں ہم جمہوریت سے آزادی تک، تجارت سے سرمایہ کاری تک، طبی سہولتوں سے خارجہ پالیسی تک تاریخی ریفارمز لائے ہیں۔ آج ترکی دنیا بھر کے مظلوموں اور متاثرہ لوگوں کے لیے امید کا دروازہ ہے۔ اسی وجہ سے ہم آج تمام خونی دہشتگرد تنظیموں کے نشانے پر ہیں۔ ہم ان تمام ہیڈلائنز، سازشوں، اور شطرنج کے پیادوں کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے 2023ء کے اہداف کو حاصل کر لیں گے۔

تبصرے
Loading...