ترکی ایک ہی وقت میں کئی محاذوں پر لڑ رہا ہے، رجب طیب ایردوان

0 229

آق پارٹی کرس کی صوبائی کانگریس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا: "ترکی ایسا ملک ہے جو بیک وقت دہشتگردوں سے لے کر معاشی ہٹ مینوں اور غیر ملکی سازشوں تک کئی حملوں کے خلاف لڑ رہا ہے۔ ایسی صورتحال میں یہ بالکل بد قسمتی ہے کہ مرکزی اپوزیشن پارٹی نہ صرف ضمنی طور پر بلکہ صریحاً اور غیر مبہم طور پر دہشتگردوں کی کٹھ پتلی اور چال چلنے والوں کا حصہ بن رہی ہے”۔

آق پارٹی کے چیئرمین اور صدر جمہوریہ ترکی رجب طیب ایردوان نے آق پارٹی کرس کی صوبائی مجلس سے خطاب کیا۔

ہم قومی اتحاد اور ملکی امن کے یہاں موجود ہیں

گذشتہ ہفتے کے دوران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 100 دہشتگرد ہلاک کئے گئے ہیں، صدر ایردوان نے کہا: "اگر انہوں نے اس ملک کو تقسیم کرنے کی کوشش جاری رکھی تو اس کی تعداد 200 ہو جائے گی، پھر 300 اور پھر ہزاروں میں ہو جائے گی۔ کسی کو میری قوم کے امن اور فلاح کو خراب کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہم قومی اتحاد اور ملکی امن کے یہاں موجود ہیں”۔

انہوں نے واضع کرتے ہوئے کہ جو ملک میں انتشار چاہتے ہیں وہ اس کی قیمت چکائیں گے، صدر ایردوان نے کہا: "جمہوریہ ترکی کے علاوہ ہمارا کوئی اور ملک نہیں ہے، فیتو کا وہ نیچ رہنماء اور ان کا متوازی نظام کہاں ہے؟ امریکا میں، جس کا مطلب ہے کہ امریکا اس سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے اور وہ بدلے میں امریکا کو پیار کرتا ہے”۔

جعلی عدالتیں میرے ملک پر کوئی الزام نہیں دھر سکتیں

قومی اتحاد کی اہمیت پر بات کرتے ہوئے ایردوان نے کہا: "جو جس طریقے سے 15 جولائی کو حملہ آور ہوئے وہ اسی طرح واپس مڑے۔ ہمیں 250 شہیدوں اور 2193 غازیوں کا بار اٹھانا پڑا لیکن وہ امریکا کی طرف بھاگے اور مغرب کے باقی ملکوں میں بھاگ گئے۔ تاہم اس ملک کے سچے مالک یہیں موجود ہیں۔ دیکھو، ہم یہاں ہیں، کہاں ہیں وہ؟  کچھ نے خود کو ہنس کے قدموں میں گرا دیا اور کچھ جارج کی خدمتوں میں زندگی گزارنے لگے اور باقیوں نے خود ساختہ الزامات کے ذریعے جعلی عدالتوں سے میرے ملک پر دوبارہ حملے کی کوشش کر رہے ہیں”۔ انہوں نے کہا کہ جعلی عدالتیں کسی صورت بھی ہمارے ملک پر الزام عائد نہیں کر سکتیں۔

اس بار آپ اتنی آسانی سے اپنے چنگل سے باہر نہیں نکل سکیں گے، اس جھوٹ کی اب قیمت چکانا پڑے گی

رجب طیب ایردوان نے مرکزی اپوزیشن پارٹی کے سربراہ کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات پر بھی بات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اپوزیشن رہنماء کے الزامات کی کئی مثالیں دیں کہ کیسے انہوں نے ان پر اور ان کے قریبی لوگوں پر الزامات عائد کئے اور پھر جاتے رہے۔ ان کی جھوٹ اور بہتانوں کی طویل کہانیاں ہیں۔

اس موقع پر ترک صدر ایردوان نے اعلان کیا کہ اگر وہ اور ان کے ساتھی جن پر الزام عائد کیے گئے ہیں یہ کیس (ہرجانہ) جیت کر اس رقم سے بے سہارا خواتین کے لیے رہائش گائیں تعمیر کریں گے

صدر ایردوان نے کہا: "اس بار آپ اتنی آسانی سے اپنے چنگل سے باہر نہیں نکل سکیں گے، اس جھوٹ کی اب قیمت چکانا پڑے گی۔ مجھے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ اپنے وعدے، معافی اور استعفیٰ پر عمل کریں گے۔ اگر آپ توجہ کریں تو میں نے بہت کوشش کی ہے کہ اس کے لیول تک نہ گروں۔ لیکن اب اس الزام کو اس کے انجام تک پہنچائیں گے”۔

میں شکرگزار ہوں کہ ہماری قوم انہیں کوئی وقعت نہیں دیتی

یہ واضع کرتے ہوئے کہ ترکی ایسا ملک ہے جو بیک وقت دہشتگردوں سے لے کر معاشی ہٹ مینوں اور غیر ملکی سازشوں تک کئی حملوں کے خلاف لڑ رہا ہے ترک صدر نے کہا کہ ایسی صورتحال میں یہ بالکل بد قسمتی ہے کہ مرکزی اپوزیشن پارٹی نہ صرف ضمنی طور پر بلکہ صریحاً اور غیر مبہم طور پر دہشتگردوں کی کٹھ پتلی اور چال چلنے والوں کا حصہ بن رہی ہے لیکن میں شکر گزار ہوں کہ ہماری قوم انہی کوئی وقعت نہیں دیتی کیونکہ وہ ان چیزوں کو بخوبی سمجھنے کی سوجھ بوجھ رکھتی ہے۔

تبصرے
Loading...