ترکی کی جانب سے یورپی یونین کے میڈ9 ممالک کی سخت مذمت

0 588

ترکی نے یورپی یونین کی جنوبی ریاستوں کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کو "یک طرفہ” اور حقائق سے دُور قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی بحیرۂ روم، قبرص اور مہاجرین کے معاملے پر ‘میڈ9’ کا مشترکہ اعلامیہ پچھلے سال کی طرح اب بھی متعصبانہ اور کوتاہ نظری پر مبنی ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ تانجو بلگچ نے زور دیا ہے کہ اس اعلامیے پر دستخط کرنے والوں کو چاہیے کہ اپنا یک طرفہ رویّہ ترک کریں کیونکہ وہ یکجہتی کے نام پر یونان اور یونانی قبرص کی انتظامیہ کی اندھی تقلید کر رہے ہیں۔

یورپی یونین کے وہ ممالک جن کا ساحل بحیرۂ روم سے ملتا ہے، ان کا ‘میڈ9’ اجلاس جمعے کو ہوا تھا جس میں اسپین، فرانس، اٹلی، مالٹا، یونان، سلووینیا، کروشیا اور یونانی قبرص انتظامیہ کے علاوہ پرتگال کے وزیر خارجہ اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا واد دیر لیئن نے بھی شرکت کی تھی۔

شرکا نے سیاسی اور انسانی اہمیت کے حامل معاملات پر ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا، جس میں بحیرۂ روم میں امن، تحفظ اور استحکام کو یورپی یونین کی تزویراتی ترجیح قرار دیا گیا تھا۔

قبرص دہائیوں نے یونان اور قبرص کے مابین وجہ نزاع بنا ہوا ہے اور جامع تصفیے کے لیے کی گئی اقوامِ متحدہ کی کئی سفارتی کوششوں کے باوجود یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہو سکا۔

یہ مسئلہ تب پیدا ہوا جب 1960ء کی دہائی کے اوائل میں قبرص کے ترک باشندوں پر نسل پرستانہ حملے شروع کیے گئے، جن کی وجہ سے وہ مخصوص علاقوں کی جانب منتقل ہونے پر مجبور ہو گئے۔ 1974ء میں یونانی قبرص میں فوجی بغاوت ہوئی جس کا ہدف جزیرے کو یونان کا حصہ بنانا تھا، جس پر ترکی کو ضامن قوت کی حیثیت سے مداخلت کرنا پڑی تاکہ وہ ترک قبرصی باشندوں کو مظالم اور تشدد سے بچائے۔ نتیجتاً 1983ء میں ترک جمہوریہ شمالی قبرص کا قیام عمل میں آیا۔

حالیہ چند سالوں میں اس مسئلے کے حل کے لیے کچھ اقدامات تو اٹھائے گئے، لیکن کوئی سیر حاصل نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

یونانی قبرص 2004ء میں یورپی یونین کا رکن بن گیا، اور اسی سال یونان نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے اقوام متحدہ کے ‘عنان پلان’ کو ٹھکرا دیا تھا۔

تبصرے
Loading...