کینیڈا کی جانب سے ترکی کو عسکری برآمدات معطل، فیصلے پر ترکی کی کڑی تنقید

0 137

آذربائیجان-آرمینیا کشیدگی کے پیشِ نظر کینیڈا کی جانب سے ترکی کو عسکری برآمدات معطل کرنے کے فیصلے کو ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور اسے کینیڈا کا دہرا معیار قرار دیا ہے۔

ایک بیان میں وزارت نے کہا ہے کہ کینیڈا کا فیصلہ آرمینیا کے قبضے کے خلاف آذربائیجان کی قانونی جدوجہد کے حوالے سے اُس کے دہرے معیارات کی عکاسی کرتا ہے حالانکہ وہ یمن تنازع میں ملوث ممالک کو بدستور فوجی برآمدات دے رہا ہے حالانکہ اس پر اقوامِ متحدہ کی جانب سے کڑی تنقید بھی کی گئی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ "کینیڈا یمن بحران میں عسکری طور پر ملوث ملکوں کو ہتھیار برآمد کرنے میں کوئی قباحت نہیں دیکھتا، اور فروخت کو علاقائی سالمیت میں اپنا حصہ سمجھتا ہے، اس لیے اپنے نیٹو اتحادیوں کو ہتھیاروں کی برآمد کی کوئی وضاحت نہیں ہو سکتی۔

وزارتِ خارجہ نے شمالی شام میں ترکی کے آپریشن چشمہ امن کے حوالے سے کینیڈا کے عدم تعاون پر مبنی رویّے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

"ترکی ایک جامع ایکسپورٹ کنٹرول نظام رکھتا ہے اور مذکورہ بالا حکومتوں کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں بہت احتیاط سے نبھاتا ہے۔ ترکی توقع رکھتا ہے کہ کینیڈا دو رُخی پالیسی سے اجتناب کرے گا اور اپنے ملک میں ترکی مخالف حلقوں کے اثر و رسوخ اور اُن کے سیاسی جوڑ توڑ سے باہر ہو کر کام کرے گا۔

کینیڈا کے امورِ خارجہ کے وزیر فرانکو فلپ شامپین نے کہا تھا کہ وہ صورت حال کا مزید جائزہ لینے کے لیے ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت معطل کر رہے ہیں۔ "کینیڈا نگورنو-قراباخ میں جاری کشیدگی کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے، جس میں مقامی آبادیوں پر گولاباری کی جا رہی ہے اور شہریوں کی اموات بھی ہوئی ہیں۔”

انہوں نے آذربائیجان کے زیر استعمال ڈرونز میں کینیڈا میں تیار ہونے والے امیجنگ اور ٹارگٹنگ سسٹم کے استعمال کے دعووں کی تحقیقات کا بھی حکم دیا ہے۔

کینیڈا نے 2019ء میں اعلان کیا تھا کہ وہ ترکی کو عسکری سامان کی ترسیل کے لیے برآمدی معاہدے منجمد کر رہا ہے۔ تب ترکی شمالی شام میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کر رہا تھا۔ یہ فیصلہ بعد ازاں مئی میں واپس لیا گیا۔

تبصرے
Loading...