انتخابات جیت کر مزید فلسطینی علاقوں پر قبضے کا اعلان، ترکی کی جانب سے نتن یاہو کی سخت مذمت

0 946

اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو کی جانب سے دوبارہ منتخب ہونے پر مقبوضہ مغربی کنارے کی مزید بستیاں ہتھیانے کے اعلان کی ترکی نے سخت مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ بیان بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک ٹوئٹر پیغام میں صدارتی ترجمان ابراہیم کالن نے قبضے کو جواز فراہم کرنے کے لیے انتخابات کا سہارا لینے پر نتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ وزیر خارجہ مولود چاووش اوغلو نے بھی کہا ہے کہ نتن یاہو انتخابات میں زیادہ ووٹ بٹورنے کے لیے ایسے متنازع بیانات دے رہے ہیں۔

حکمران عدالت و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے ترجمان عمر چیلک نے کہا کہ نتن یاہو کا یہ اعلان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی اور بین الاقوامی قوانین کو نظر انداز کرتا ہے۔ "یہ اعلان نہ صرف قانون کی حکم عدولی کرتا ہے، بلکہ یہ اسے مکمل طور پر تباہ کرنے کی کوشش بھی کرتا ہے،” چیلک نے اپنی ٹوئٹر پوسٹ میں کہا۔ "وقت آ چکا ہے ہے کہ بین الاقوامی برادری نتن یاہو کے پاگل پن کو روکے،” چیلک نے کہا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کا رویہ بین الاقوامی برادری کو تشکیل دینے والی عالمی اقدار پر کھلا حملہ ہے۔

چیلک نے مزید کہا کہ نتن یاہو کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے حوصلہ ملا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے کھلے عام خطرات پیدا کر رہے ہیں اور فلسطینیوں کو مشتعل کر رہے ہیں۔ چیلک نے تمام عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ نتن یاہو کے استعمال کردہ نفرت کے بیانیے کی مذمت کریں۔

"کوئی ایک بھی ایسی ایک اخلاقی قدر یا قانونی ضابطہ نہیں ہے کہ جس پر نتن یاہو نے حملہ نہ کیا ہو۔” چیلک نے مزید کہا کہ "دوسروں کے قبضے کی حمایت کرنے والوں کو اُس کے جوابی ردعمل پر بھی غور کرنا چاہیے کیونکہ یہ بین الاقوامی قانون اور تحفظ کے لیے سب سے بنیادی خطرہ ہے۔”

نتن یاہو نے سنیچر کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو مغربی کنارے کی مزید بستیاں شامل کرنے کا منصوبہ بنائیں گے۔ ان کے اس بیان سے 1967ء میں اسرائیل کے قبضے میں آنے والی فلسطینی ریاست اور اسرائیل-فلسطین معاہدے کے حوالے سے ہر امید دم توڑ رہی ہے۔

انہوں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی قبضے کو تسلیم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو "قائل” کرنے کا بھی دعویٰ بھی کیا۔

اسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ جنگ کے دوران شام سے جولان کی پہاڑیاں چھین لی تھیں۔ اسرائیل درحقیقت جولان کی پہاڑیوں کے لگ بھگ دو تہائی حصے پر قبضہ رکھتا ہے۔ اس نے 1981ء میں اس علاقے کو باضابطہ طور پر شامل کرنے کے لیے قرارداد پیش کی تھی جسے اُس وقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاق رائے سے مسترد کردیا تھا۔

تبصرے
Loading...