ترک کھلاڑیوں کے فوجی سلیوٹ جشن پر تحقیقات، ترکی کی جانب سے یوئیفا کی مذمت

0 118

ترکی نے فوجی سلیوٹ کرنے پر فٹ بال کی یورپی گورننگ باڈی UEFA کی جانب سے ترک قومی فٹ بال ٹیم اور کلبوں سے امتیازی سلوک کی سخت مذمت کی ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے انقرہ میں کہا ہے کہ یوئیفا کو اپنے رویّے پر غور کرنا چاہیے۔ "جب ترکی اور ترک کھلاڑیوں کا معاملہ آتا ہے تو (یوئیفا کے) رویّے میں یکدم تبدیلی آ جاتی ہے۔ یورپی فٹ بال باڈی کو اپنے غلط فیصلوں کے ذریعے کھیل کو سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یوئیفا کی جانب سے ترک فٹ بالرز کے اپنی افواج کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کو "اشتعال انگیز سیاسی رویہ” قرار دینا "صریح لاقانونیت” ہے۔

ایردوان نے مزید کہا کہ جب سے ترکی نے شمالی شام میں آپریشن چشمہ امن کا آغاز کیا ہے تب سے ترکی کی نمائندگی کرنے والے کھلاڑیوں کو بیرونِ ملک "باقاعدہ مہم” کا سامنا ہے۔

ترک کھلاڑی، خاص طور پر فٹ بالرز، محاذ پر موجود ترک فوجیوں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے فوجی سلیوٹ کے ذریعے جشن مناتے ہیں۔

9 اکتوبر کو شروع ہونے والا آپریشن چشمہ امن شمالی شام میں PKK سے وابستہ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے خاتمے کے لیے کیا جا رہا ہے تاکہ ترکی کی سرحدوں کو محفوظ بنایا جا سکے اور شامی مہاجرین اور شامی کی علاقائی سالمیت کو یقینی بنایا جا سکے۔

صدر ایردوان نے خاص طور پر فرانسیسی فٹ بال اسٹار انتوئن گریزمان کا 2018ء فٹ بال ورلڈ کپ میں کامیابی کے بعد ماسکو میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل ماکرون کو کیے گئے سلیوٹ کا حوالہ دیا۔ اس پر تو بارسلونا سے کھیلنے والے اس فارورڈ کے خلاف یوئیفا نے کوئی تحقیق نہیں کی۔

اکتوبر میں استنبول اور فرانس میں ہونے والے یورو 2020ء کوالیفائرز کے بعد یوئیفا نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا کہ جہاں ترک کھلاڑیوں نے گول کرنے کے بعد سلیوٹ کرکے جشن منایا۔ ان تحقیقات کا مطالبہ فرانس نے کیا تھا۔

تبصرے
Loading...