ترکی کی جانب سے امریکی قرارداد کی مذمت، F-35 پائلٹوں کی تربیت روک دی گئی

0 1,611

ترکی نے "ناقابلِ قبول” امریکی قرارداد کی مذمت کی ہے اور انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان اتحاد پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ انقرہ کی جانب سے روسی ایئر ڈیفنس میزائل سسٹم کی خرید پر امریکی ایوانِ نمائندگان کی قرارداد اور ممکنہ پابندیوں پر اصرار ناقابلِ قبول حد تک دھمکی آمیز ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے سوموار کو منظور کی گئی "امریکا-ترکی اتحاد پر خدشات کا اظہار” کرتی ہوئی قرارداد ترکی اور امریکا کے درمیان گہری دوستی اور اتحاد کے تعلقات سے مطابقت نہیں رکھتی، وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا۔

"ترکی کی خارجہ پالیسی اور اس کے عدالتی نظام کے بارےمیں غیر منصفانہ اور بے بنیاد الزامات کی تصدیق کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہے۔” انہوں نے مزید کہا۔

"ایسے فیصلے ناقابلِ قبول ہیں جو باہمی اعتماد کو بڑھانے کا کام نہ کریں، دھمکیوں کی زبان میں اور ایجنڈے کی بنیاد پر پابندیوں کی بات کریں اور مختلف مصنوعی ڈیڈلائنز بنائیں۔” وزارت نے کہا۔

وزارت نے اتحادیوں کے درمیان رائے کے اختلاف کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کی بحالی اور باہمی احترام کی اہمیت پر زور دیا۔

قرارداد ترکی کی جانب سے روسی ساختہ S-400 ایئر ڈیفنس سسٹمز حاصل کرنے کے فیصلے کی مذمت کرتی ہے اور انقرہ سے اس معاہدے کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔

امریکا اور ترکی کے درمیان تناؤ حالیہ چند ماہ میں عروج پر پہنچا ہے جب انقرہ دو ماہ میں روسی زمین سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل سسٹم کے حصول کے لیے تیاریاں شروع کرنے والا ہے۔ امریکا پہلے ہی کئی ملین ڈالرز کے تیاروں کی وصولیابی کے حوالے سے ترکی کو پرزوں اور سرو‎ز کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

ترکی نے 2017ء میں S-400 سسٹم خریدنے کا فیصلہ کیا تھا جب امریکا سے ایئر ڈیفنس سسٹم خریدنے کی تمام کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں۔

البتہ امریکی حکام نے ترکی کو تجویز کیا کہ وہ ماسکو سے S-400 سسٹم کے بجائے پیٹریاٹ میزائل سسٹم خریدیے، کیونکہ وہ روسی نظام کو نیٹو کے سسٹمز کے مطابق نہیں سمجھتا۔ ترکی نے جواب دای کہ یہ امریکا کا پیٹریاٹس فروخت کرنے سے انکار تھا کہ جو اس کی دیگر ملکوں سے رابطہ کرنے کا سبب بنا جن میں سے روس نے ٹیکنالوجی کی منتقلی سمیت بہتر سودا پیش کیا۔ صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ ہفتے کہا کہ امریکا نے اب تک ترکی کو "S-400 جیسی اچھی پیشکش” نہیں کی۔

قرارداد ترکی پر زور دیتی ہے کہ وہ S-400 کی خریداری منسوخ کرے اور ڈلیوری وصول کرنے پر پابندیوں کا مطالبہ کرتی ہے، جو ممکنہ طور پر جولائی میں متوقع ہے۔

ایریزونا ایئربیس میں ترک F-35 پائلٹوں کو روک دیا گیا

دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ F-35 لڑاکا طیاروں کے لیے ترک پائلٹوں کی تربیت ایریزونا کے ایئربیس پر توقعات سے کہیں پہلے روک دی گئی ہے، جس کی وجہ انقرہ کی جانب سے S-400 معاہدے میں شمولیت ہے۔

"محکمہ جانتا ہے کہ ترک پائلٹ پروازیں نہیں کر رہے،” پینٹاگون کے ترجمان ایئرفورس لیفٹیننٹ کرنل مائیک اینڈریوز نے کہا۔ "ترک پالیسی میں تبدیلی کے بغیر ہم F-35 منصوبے میں اپنے ترک اتحادیوں کی شمولیت کو کم کرتے جائیں گے۔”

امریکا نے جمعے کو کہا کہ وہ F-35 لڑاکا طیاروں کے پروگرام میں ترکی کے ساتھ نئےنئی پائلٹ ٹریننگ کو روک دے گا، حالانکہ ترکی F-35 منصوبے کے بنیادی شراکت داروں میں سے ایک اور ممکنہ خریدار ہے۔ قائم مقام امریکی وزیر دفاع پیٹرک شیناہن نے کہا کہ وزیر دفاع خلوصی آقار کو بھیجے گئے خط کے مطابق پروگرام میں شامل ترک پائلٹوں کو 31 جولائی تک امریکا چھوڑنا ہوگا اور نئے پائلٹوں کی تربیت معطل کردی جائے گی۔

یہ ٹائم ٹیبل F-35 پر زیرِ تربیت موجودہ پائلٹوں کو اپنی تربیت مکمل کرنے اور دیگر پائلٹوں کو اپنے ذمہ داریاں دوبارہ تفویض کرنے کا موقع دے گا، شیناہن نے کہا۔ امریکا پہلے ہی ترکی کی جانب سے کئی ملین ڈالرز کے طیاروں کی وصولی کے حوالے سے پرزوں اور سروسز کی فراہمی معطل کر چکا ہے۔

چار ترک پائلٹ اس وقت ایریزونا کی لیوک ایئرفورس بیس میں زیرِ تربیت ہیں۔ دو اضافی پائلٹس امریکی اڈے پر انسٹرکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔ امریکی افواج کے مطابق چھ ترک افسران کے علاوہ اڈے پر مزید 20 ترک ایئرکرافٹ ٹیکنیشنز بھی تربیت لے رہے ہیں۔

پائلٹو ں کے حوالے سے فیصلے کا اعلان اس جانب اشارہ کرتا ہے کہ ترکی S-400 کی خریداری کی سمت قدم بڑھا رہا ہے۔ وزیر آقار نے کہا کہ 22 مئی کو ترک فوجی اہلکار S-400 کے استعمال کے لیے روس میں تربیت لے رہے ہیں اور روسی اہلکار بھی ترکی آ سکتے ہیں۔ صدر رجب طیب ایردوان نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ ترکی کی جانب سے ماسکو سے معاہدہ ختم کرنے کا "سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”

واشنگٹن نے کہا کہ S-400 نیٹو سسٹمز کے موافق نہیں ہوگا اور روسی نظام کے مقابلے میں F-35 کی کمزوریاں سامنے لائے گا۔ لیکن انقرہ نے زور دیا کہ S-400 نیٹو آپریشنز کے تحت شامل کیا جائے گا اور اتحاد کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔

انقرہ نے بارہا کہا کہ وہ واشنگٹن کے خدشات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔ اس نے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی تجویز دی تاکہ جائزہ لیا جا سکے کہ آیا S-400 نیٹو کے لیے خطرہ ہیں یا نہیں؛ البتہ امریکا نے ٹیکنیکل ٹیم کی تشکیل کی سمت کوئی قدم نہیں اٹھایا۔

ترک F-35 پائلٹ امریکا کی جانب سے F-35 پروگرام میں ترکی کی شمولیت کے خاتمے کے بعد ایریزونا کی لیوک ایئرفورس بیس پر کوئی پرواز نہیں کر رہے، پینٹاگون نے سوموار کو رائٹرز کو بتایا۔

"محکمہ جانتا ہے کہ ترک پائلٹ پروازیں نہیں کر رہے،” پینٹاگون کے ترجمان ایئرفورس لیفٹیننٹ کرنل مائیک اینڈریوز نے کہا۔

"ترک پالیسی میں تبدیلی کے بغیر ہم F-35 منصوبے میں اپنے ترک اتحادیوں کی شمولیت کو کم کرنے کے لیے اُن کے ساتھ کام کرتے رہیں گے۔”

پینٹاگون نے جمعے کو کہا تھا کہ اگر ترک حکومت روسی ساختہ S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم خریدنے کے منصوبے پر آگے قدم بڑھاتا ہے تو وہ انقرہ کی F-35 جیٹ طیاروں کی خریداری روک دے گا، جو دونوں نیٹو اتحادیوں کے درمیان طویل اور گرماگرم تنازع کو عروج پر پہنچا دے گی۔

قائم مقام امریکی وزیر دفاع پیٹرک شیناہن نے ایک دو صفحات کے خط میں کہا کہ شامل ترک پائلٹوں کی تربیت 31 جولائی کو ختم ہو جائے گی اور ترکی کو خریدے گئے چار F-35 پائلٹوں کی حتمی فراہمی کی اجازت نہیں ہوگی۔ شیناہن نے انقرہ کو روسی سسٹم خریدنے پر خبردار بھی کیا جو مستقبل میں امریکا کے ترکی کے ساتھ تعلقات کو نقصان پہنچا سکتا ہے، حالانکہ ترکی امریکا کا اہم شراکت دار ہے اور شام میں جنگ سمیت مختلف جنگی آپریشنز کے لیے اڈے رکھتا ہے۔

یہ ٹائم ٹیبل F-35 پر زیرِ تربیت موجودہ پائلٹوں کو اپنی تربیت مکمل کرنے اور دیگر پائلٹوں کو اپنے ذمہ داریاں دوبارہ تفویض کرنے کا موقع دے گا، شیناہن نے کہا۔ چار ترک پائلٹ اس وقت ایریزونا کی لیوک ایئرفورس بیس میں زیرِ تربیت ہیں۔ دو اضافی پائلٹس امریکی اڈے پر انسٹرکٹر کی حیثیت سے کام کر رہے ہیں۔

امریکی افواج کے مطابق چھ ترک افسران کے علاوہ اڈے پر مزید 20 ترک ایئرکرافٹ ٹیکنیشنز بھی تربیت لے رہے ہیں۔

تبصرے
Loading...