امریکا کے مشرق وسطیٰ منصوبے پر ترکی کی کڑی تنقید، یروشلم ‘سرخ لکیر’ ہے

0 328

ترکی نے اسرائیل-فلسطین تنازع کے حل کے لیے امریکا کے یکطرفہ امن منصوبے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور ایک مرتبہ پھر یروشلم کو "سرخ لکیر” قرار دیا ہے۔ دوسری جانب، ترک عوام واشنگٹن اور تل ابیب کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں اور انہیں فلسطینیوں سے "غداری” کا مرتکب قرار دیا۔

مسئلہ فلسطین پر واضح مؤقف اپنانے والے اہم ممالک میں سے ایک کی حیثیت سے ترکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نام نہاد "ڈیل آف دی سنچری” پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطین کے عوام اور فلسطینی سرزمین برائے فروخت نہیں ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان نے تین روزہ دورۂ افریقہ سے واپسی پر کہا ہے کہ "یروشلم مسلمانوں کے لیے مقدس مقام ہے اور ٹرمپ کا نام نہاد امن منصوبہ ناقابلِ قبول ہے جو یروشلم کو اسرائیل کے حوالے کرنے کی تجویز کرتا ہے۔”

ترک صدر نے زور دیا کہ یہ منصوبہ فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کرتا ہے اور اسرائیل کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ منصوبہ نہ ہی امن لائے گا اور نہ ہی خطے کے لیے کوئی حل پیش کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگلے ہفتے اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کا اجلاس اس معاملے پر مسلم ممالک کے زاویہ نظر کو طے کرے گا۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو اسرائیل-فلسطین تنازع کے خاتمے کے لیے وائٹ ہاؤس میں ایک منصوبے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر اسرائیل کے وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو موجود تھے جبکہ فلسطین کی کوئی نمائندگی نہیں تھی۔ نیوز کانفرنس کے دوران ٹرمپ نے یروشلم کو "اسرائیل کا غیر منقسم دارالحکومت” قرار دیا۔

ترک وزارتِ خارجہ نے اپنے باضابطہ بیان میں اس معاہدے کو "پیدائشی مردہ” قرار دیا اور کہا ہے کہ "یہ فلسطینی زمینیں ہڑپ کرنے اور دو ریاستوں کے حل کو ختم کرنے کا منصوبہ ہے۔” اس امر پر زور دیتے ہوئے کہ ترکی کی نظروں میں یروشلم سرخ لکیر ہے، بیان میں کہا گیا ہے کہ انقرہ اسرائیل کو اپنے قبضے اور مظالم کو درست ثابت کرنے نہیں دے گا۔ "ہم ہمیشہ فلسطینی بھائیوں کے ساتھ ہمیشہ کھڑے رہیں گے۔ ہم فلسطینی سرزمین پر ایک آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کے لیے کام جاری رکھیں گے۔”

بیان ان الفاظ کے ساتھ مکمل ہوتا ہے کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے کی حمایت نہیں کرے گا جسے فلسطینی تسلیم نہ کریں۔ "مشرقِ وسطیٰ میں امن کا قیام ممکن نہیں جب تک کہ قبضے پر مبنی پالیسیاں ختم نہیں ہوں گی۔”

اسرائیل نے 1967ء کی عرب-اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم کو ہتھیا لیا تھا اور 1980ء میں پورے شہر پر قبضہ کر لیا اور اسے یہودی ریاست کا "دائمی اور غیر منقسم” دارالحکومت قرار دے دیا جبکہ بین الاقوامی برادری نے اس قدم کو تسلیم نہیں کیا۔

دریں اثناء، ترک پارلیمان نے بدھ کو ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا اور مشرق وسطیٰ کے لیے نام نہاد امن منصوبے کی مذمت کی۔ اس اعلان پر حکمران آق پارٹی، جمہور خلق پارٹی، ملی حرکت پارٹی اور خلق ڈیموکریٹک پارٹی نے دستخط کیے۔ اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ "یہ منصوبہ فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے قبضے کو قانونی حیثیت دینا چاہتا ہے اور اب فلسطینیوں کو جبراً تسلیم کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔” اس اعلامیے میں زور دیا گیا کہ ترکی کسی بھی ایسے منصوبے یا سودے کی حمایت نہیں کرے گا جو فلسطینیوں کے حقوق اور آزادی کے خلاف ہو۔

تبصرے
Loading...