بیروت دھماکا، ترکی لبنان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے

0 240

صدر رجب طیب ایردوان اور ترک کے چند اعلیٰ ترین عہدیداروں نے لبنان کے دارالحکومت بیروت میں زبردست دھماکے کے بعد ہونے والے نقصان پر دلی رنج و افسوس کا اظہار کیا ہے۔

یہ دھماکا جمعرات کو ایک گودام میں آگ لگنے کے نتیجے میں ہوا تھا کہ جس میں دھماکا خیز مواد محفوظ تھا۔ واقعے کی اصل وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہے۔

فون کال کرکے صدر ایردوان نے اپنے لبنانی ہم منصب میشال عون سے اظہارِ تعزیت کیا ۔ صدر ایردوان نے کہا کہ ترکی اس مرحلے پر لبنان کے شانہ بشانہ کھڑا ہے اور لبنان کے عوام کے لیے ہر قسم کی، بالخصوص صحت کے حوالے سے، امداد دینے کو تیار ہے۔

انہوں نے ٹوئٹر پر عربی میں پیغام بھی دیا۔ "میں بیروت کی بندرگاہ پر ہونے والے دھماکے میں اپنے عزیزوں کو کھونے والوں سے تعزیت کا اظہار کرتا ہوں اور اللہ سے ان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتا ہوں۔ امید ہے کہ زخمی جلد صحت یاب ہوں گے۔ ہم ہمیشہ لبنان اور اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ رہیں گے۔”

واقعے کے بعد کئی اعلیٰ ترک عہدیداروں نے بھی واقعے پر افسوس اور لبنان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

سب سے پہلے نائب صدر فواد اوقتائی کا بیان آیا کہ جنہوں نے لبنان کےعوام کے ساتھ اظہاریکجہتی کیا اور کہا کہ انقرہ ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیرِ خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے ایک ٹوئٹ میں دھماکےسے متاثرہ افراد دعا کرتے ہوئے کہا کہ "لبنان کے برادر اور دوست عوام سے اظہارِ تعزیت۔ امید ہے کہ نقصان زیادہ نہیں ہوا ہوگا۔ لبنان کے بھائیوں اور بہنوں کی ہر طرح کی مدد کرنے کے لیے تیار۔”

اسی طرح کے بیانات حکمران انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے ترجمان عمر چیلک، وزیر انصاف عبد الحمید گل اور ترک پارلیمان کے اسپیکر مصطفیٰ شین توپ نے بھی دیے ہیں۔

تبصرے
Loading...