ترکی کے لاذقیہ اور دیگر شامی اہداف پر میزائل حملے

0 2,848

ترکی نے شام کی اسد حکومت کے فضائی حملے میں 22 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد جمعے کو علی الصبح شام کے وسطی شہر حماۃ، شمال مغربی قصبوں نبل اور زہراء اور ساتھ ہی شامی حکومت اور روس کے اڈے لاذقیہ پر میزائل حملے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ادلب کے قریب شامی حکومت کے اہداف کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

قبل ازیں، صدر رجب طیب ایردوان نے شام میں کشیدگی کے حوالے سے ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق تمام وزراء اور سینئر حکام اس موقع پر موجود تھے جن میں نیشنل انٹیلی جنس آرگنائزیشن (MIT) کے سربراہ خاقان فدان بھی شامل تھے۔

ڈائریکٹوریٹ آف کمیونی کیشنز نے شامی فوج کے خلاف ترک کارروائی پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فوج نے 1,709 شامی فوجیوں کو بے اثر بنایا ہے اور ساتھ ہی 55 ٹینک، تین ہیلی کاپٹر، 18 بکتر بند گاڑیوں، 29 توپوں، 21 فوجی گاڑیوں، چھ اسلحہ ڈپو، سات مارٹر اور چار ہیوی مشین گنوں کو ناکارہ کیا ہے۔

ستمبر 2018ء میں ترکی اور روس نے ادلب کو ایک de-escalation زون بنانے پر اتفاق کیا تھا، جہاں جارحیت کا مظاہرہ کرنا ممنوع ہے۔

لیکن شامی حکومت اور روسی فوج کے حملوں میں اب تک 1,300 سے زیادہ شہری اس زون میں مارے جا چکے ہیں اور سیزفائر کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔

ان سخت حملوں کی وجہ سے 10 لاکھ سے زیادہ شہری ترک سرحد کے قریب منتقل ہو چکے ہیں۔

تبصرے
Loading...