ترکی ادلب میں مستقل فائر بندی کی کوشش کر رہا ہے، صدر ایردوان

0 589

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں مستقل فائر بندی کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور روس سے توقع رکھتا ہے کہ اس کی خلاف ورزیوں سے نمٹے گا۔ اگر وعدے پورے نہ کیے گئے تو ترکی علاقے میں مزید فوجی آپریشنز کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

انقرہ میں انصاف و ترقی پارٹی (آق پارٹی) کے پارلیمانی گروپ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ "اگر شامی حکومت اور روس فائر بندی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے تو ہم ان کے خلاف ضروری اقدامات اٹھانے سے نہیں ہچکچائیں گے۔ علاقے میں ترکی کی مشاہداتی چوکیوں کی حفاظت اِس وقت ہماری سب سے بڑی ترجیح ہے۔”

ایردوان نے کہا کہ ترکی ادلب میں عارضی فائر بندی کو مستقل کرنا چاہتا ہے اور اگر فائر بندی کے وعدے پورے نہ کیے گئے تو مزید فوجی آپریشنز سے ہر گز نہیں ہچکچائے گا۔

YPG/PKK دہشت گرد گروپوں کے تل رفعت کے علاقے میں بڑھتے ہوئے حملوں پر بات کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ فوج دہشت گردوں کو جہاں پاتی ہے وہاں ان کا خاتمہ کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انقرہ شمال مغربی شام میں امن و امان اور استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام کوششوں کو حقیقی طور پر سپورٹ کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی علاقے میں فائر بندی کو محض اس لیے قبول نہیں کیا کہ وہ بشار اسد کی حکومت اور دہشت گردوں سے لڑ نہیں سکتا، بلکہ اس لیے کیونکہ ترکی ادلب بحران کا حل چاہتا ہے۔

صدر مملکت نے یہ بھی کہا کہ ترکی یورپ جانے کی کوشش کرنے والے مہاجرین کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھے گا یہاں تک کہ یورپی یونین اپنے وعدے پورے کرے۔ انہوں نے یونان کے مہاجرین سے "غیر انسانی” سلوک پر یورپی یونین کے رویے پر بھی تنقید کی۔ "معصوم لوگوں پر گولیاں چلانا اور ان پر آنسو گیس کے گولے پھینکنا بربریت ہے۔ مہاجرین کے کپڑے اتار کر ان پر تشدد کرنے اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے پر یونان کے خلاف بولنے والا کوئی نہیں۔”

تبصرے
Loading...