ادلب سیز فائر کی خلاف ورزی پر ترکی نے روسی اور ایرانی سفیر کو طلب کر لیا

0 8,931

ترک وزارت خارجہ نے ادلب سیز فائر معاہدہ کے برخلاف بشار الاسد کی طرف سے ادلب پر بمباری کا نوٹس لیتے ہوئے ترکی میں تعینات روسی اور ایرانی سفیر کو جواب کے لیے طلب کیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق ترکی نے بشار الاسد کی طرف سے ادلب سیز فائر پر اپنے تحفظات روس اور ایران تک پہنچائے ہیں۔

ترک وزارت خارجہ نے انقرہ میں تعینات روسی سفیر سے کہا کہ یہ خلاف ورزی "شامی قومی مذاکراتی کانگریس” سے قبل ختم ہونا چاہیے جو 29 جنوری کو ہو رہی ہے ورنہ وہ کانگریس بے معنی ہو جائے گی۔

ذرائع کے مطابق ترکی نے روسی اور ایرانی سفراء پر واضع کیا ہے کہ وہ بشار کے حملوں کو سیز فائر ورزی ہی نہیں بلکہ آستانہ مذاکرات میں ہونے والے بارڈز معاہدہ کی شدید خلاف ورزی سمجھتا ہے جس کی تین ممالک نے گارنٹی دی تھی۔

اس سے قبل ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے بشار الاسد رجیم کی طرف سے ادلب میں معتدل اپوزیشن پر حملوں کے بعد کہا تھا کہ یہ شام کے سیاسی حل کے لیے خطرہ ہیں۔

چاوش اولو نے کہا تھا کہ "النصرہ کا نام لے کر اسد رجیم معتدل اپوزیشن کو نشانہ بنا رہی ہے۔ یہ حرکت سیاسی حل کو تباہ کر دے گی۔ وہ پارٹیاں جن کے درمیان سوچی میں اتفاق رائے ہوا تھا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے”۔

ترکی نے یہ ردعمل اس وقت دیا ہے جب شام میں اسد رجیم نے معتدل اپوزیشن کے زیر کنٹرول ادلب پر فضائی بمباری کے بعد 14 گاؤں پر قبضہ کر لیا۔ اسدی فوج کا مقصد ادلب میں قائم اپوزیشن کے فضائی اڈے اور مرکزی شہر کو دمشق اور حلب سے ملانے والی سڑکوں پر قبضہ کرنا تھا۔

سہہ فریقی مذاکرات میں ترکی، روس اور ایران کے اتفاق رائے سے شام میں ادلب کو محفوظ علاقہ قرار دیا گیا تھا اور وہاں کسی قسم کی اسلحہ کشی پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

 

تبصرے
Loading...