اطالوی وزیراعظم کے غیرمناسب بیان پر ترکی نے اطالوی سفیر کو طلب کر لیا

0 1,422

ترکی کی وزارت خارجہ نے اطالوی وزیر اعظم ماریو دراگی کے صدر رجب طیب ایردوان بارے تبصرے پر ردعمل دیتے ہوئے اطالوی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کیا ہے جبکہ دوسری طرف ترک وزیر خارجہ میولوت چاوش اولو نے اس "ناقابل قبول بیان” کی شدید مذمت کی۔

سفیر مسیمو گیانی، جو جنوری 2019 سے ترکی میں اٹلی کے سفیر کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں، انہیں دراگی کے اس بیان پر طلب کیا گیا، جس میں انہوں نے صدر ایردوان کو "آمر” کہا تھا۔

ٹویٹر پر ایک پیغام میں، چاوش اولو نے کہا کہ ترکی، صدر ایردوان بارے میں اٹلی کے وزیر اعظم دراگی کے "ناقابل قبول، شہرت کے بھوکے اور بدصورت” بیان کی شدید مذمت کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکی نے دیئے گئے ریمارکس کو "مسترد” کرتا ہے۔

ایک بیان میں، وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ اطالوی سفیر کو فوری طور پر ایردوان کے بارے میں "ناقابل قبول” بیان پر طلب کیا گیا تھا۔ نائب وزیرخارجہ فاروق کائمکجی نے سفیر کو بتایا کہ "ترکی، ایردوان بارے میں اطالوی وزیر اعظم کے دئیے گئے بیان کی شدید مذمت کرتا ہے، ایردوان یورپ کے کسی بھی رہنما سے زیادہ عوامی ووٹ حاصل کر کے صدر بنے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ترکی توقع کرتا ہے کہ اٹلی، ترکی مخالف ان ریمارکس کو واپس لے گا”

نائب وزیر خارجہ نے سفیر کو یہ بھی بتایا کہ بدھ کے روز یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ صدر ایردوان کی ملاقات پر پروٹوکول بارے معلومات جانے بغیر سٹنگ پلان پر دئیے گئے بیانات "ناقابل قبول ہیں۔” مزید برآں، نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ترکی یورپی یونین کے ممالک کی طرف سے اچھالے گئے ان بے معنی تنازعات میں فریق نہیں بنے گا جن سے ترکی اور بلاک کے مابین ہونے والی مثبت پیشرفت کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں کامیاب ہو پائیں۔

دوسری طرف، صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے بھی دراگی کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں "بے بنیاد” قرار دیا۔

انہوں نے کہا "ہم اس بیان کی مذمت کرتے ہیں اور توقع کرتے ہیں کہ وہ اس پر نظر ثانی کریں گے۔”

دراگی کا یہ بیان ان تصاویر کے بعد سامنے آیا ہے جن میں یورپی کمیشن کی صدر اروسولا کو بغیر کسی نشست کے صوفہ پر بیٹھایا گیا تھا، اس تصویر کو لے کر سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور الزامات عائد کئے ہیں کہ یورپی یونین کے رہنماؤں کے ساتھ صدر ایردوان کی ملاقات کے دوران اروسولا کے ساتھ صنفی بنیاد پر متنازعہ سلوک روا رکھا گیا ہے۔ تاہم وزیرخارجہ نے بتایا کہ بیٹھنے کے انتظامات پر ملاقاتوں سے قبل بلاک کے ساتھ تبادلہ خیال کیا گیا تھا اور ان کی تجاویز کے مطابق پروٹوکول اپنایا گیا تھا۔

یورپی یونین کونسل کے پروٹوکول آفیسر نے بھی صدر اروسولا کے سٹنگ پلان کا دفاع کیا ہے۔

انہوں نے کہا ، "عام طور پر، کسی بھی تیسرے ملک کے پروٹوکول میں متعلق یورپی کونسل کے صدر کو صدر مملکت کی حیثیت، جبکہ کمیشن کے صدر کو وزیر اعظم کے منصب کے حیثیت سے پروٹوکول دیا جاتا ہے۔ جو یورپی قوانین کے عین مطابق ہے”

تبصرے
Loading...