کرونا وائرس کا خطرہ، ترکی نے ایران اور افغانستان کے لیے پروازیں بند کر دِیں

0 544

ترکی نے کروناوائرس کی وباء کے خلاف اقدامات کے سلسلے میں ایران اور افغانستان کے لیے تمام پروازیں معطل کر دی ہیں جس کا اعلان وزارت ٹرانسپورٹ و انفرا اسٹرکچر نے کیا ہے۔

ایران کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان رضا جعفر زادہ نے بتایا تھا کہ ترکی نے ملک میں وباء کی وجہ سے ایران کے لیے تمام پروازیں تاحکمِ ثانی روک دی ہیں۔ ان کے مطابق پروازوں کی معطلی کا آغاز ہفتے کے روز ہوا تھا۔

ترکی نے 11 جون سے لاک ڈاؤن کو نرم کرتے ہی مرحلہ وار پروازیں شروع کر دی تھیں۔

ایران مشرق وسطیٰ میں اس وباء سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک ہے جہاں وسط اپریل سے پابندیاں نرم پڑتے ہی متاثرہ افراد اور اموات میں یکدم اضافہ ہوا ہے۔

وباء کے بعد سے ترکی اور ایران کی سرحد بند ہے۔ اسے بعد میں صرف تجارت کے لیے کھولا گیا۔

جون کے وسط میں ایک اجلاس کے دوران ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو اور ان کے ایرانی ہم منصب جواد ظریف نے کہا کہ دونوں ممالک سیاحوں کے لیے سرحد کھولنے کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔

ایران کے صدر حسن روحانی نے ہفتے کو ایک حیران کن بیان دیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ 25 ملین ایرانی کروناوائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں۔

یہ تعداد ایران کی ایک تہائی آبادی کے برابر ہے اور COVID-19 کے مریضوں کی سرکاری تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ اتوار تک سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کرونا وائرس کے شکار افراد کی تعداد 2,73,788 ہے جبکہ 14,188 افراد موت کا شکار ہوئے۔

دوسری جانب افغانستان میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اتوار تک COVID-19 کے 35,229 کیس موجود ہیں۔ ملک میں مرنے والوں کی تعداد 1,147 بتائی جاتی ہے۔

افغان ہلالِ احمر نے پچھلے ہفتے بتایا تھا کہ ملک صحت، سماجی و معاشی بحران کے کنارے پر کھڑا ہے کیونکہ COVID-19 دہائیوں سے جنگ سے بے حال ملک کے صحت کے بنیادی ڈھانچے پر دباؤ ڈال رہا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ملک میں وباء سے ہونے والی اموات درحقیقت کہیں زیادہ ہیں اور محدود پیمانے پر ٹیسٹ ہونے کی وجہ سے حکام ان سے لاعلم ہیں۔

تبصرے
Loading...