ترکی کی برآمدات: نئے سال میں 190 ارب ڈالرز کا ہدف

0 353

ترک ایکسپورٹرز اسمبلی (TIM) کے سربراہ اسمٰعیل گلہ نے کہا ہے کہ ترکی 2020ء کے لیے 190 ارب ڈالرز کی برآمدات کا ہدف طے کر رہا ہے۔

مختلف رکاوٹوں کے باوجود ملک کی برآمدات 2019ء میں بلند ترین سطح پر پہنچیں کہ جو سالانہ 2.04 فیصد اضافے کے ساتھ 180.46 ارب ڈالرز رہیں۔

درآمدات 8.99 فیصد کم ہوکر 210.4 ارب ڈالرز تک آ گئی ہیں، جبکہ غیر ملکی تجارتی خسارہ سالانہ بنیادوں پر 44.9 فیصد کم ہوکر 54.3 ارب سے 29.9 ارب ڈالرز تک آ گیا ہے۔ غیر ملکی تجارت نے ملک کی ترقی میں 4.7 پوائنٹس کے ساتھ ریکارڈ حصہ ڈالا ہے، جو 18 سال میں ترکی میں سب سے بڑا حصہ ہے۔

2019ء میں درآمدات و برآمدات کی کوریج کا تناسب 85.8 فیصد تھا، جو 2018ء میں 76.5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

ملک کی مجموعی برآمدات میں ہائی ٹیک مصنوعات حصہ بڑھ رہا ہے۔ ترکی خصوصی فری-زونز میں ہائی ٹیک مصنوعات کا حصہ بڑھاتے ہوئے 14 فیصد تک لانا چاہتا ہے جو آرگنائزیشن آف اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیولپمنٹ (OECD) ممالک کا اوسط ہے۔

ترکی کے مرکزی بینک (CBRT) نے پچھلے سال جولائی سے شرحِ سود میں کمی کا بھی آغاز کر دیا ہے کہ جو افراطِ زر میں اضافے کی وجہ سے ستمبر 2018ء میں 24 فیصد کی شرح تک پہنچ گئی تھی۔ اس نے جولائی سے دسمبر کے دوران شرحِ سود میں 12 فیصد کمی کی جو اب 12 فیصد پر کھڑی ہے اور اس میں ابھی مزید کمی بھی کی جائے گی۔

بین الاقوامی تجارت میں مشکلات کے باوجود ترکی کی برآمدات کا بڑھنا بہت اہم ہے اور توقع ہے کہ نیا سال ریکارڈ برآمدات کے ساتھ مکمل ہوگا۔

2019ء میں دنیا کے ٹاپ 50 برآمدی ممالک کی فروخت کے حجم میں 2.7 فیصد کمی آئی جبکہ ترکی نے برآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ کیا۔

2019ء میں 17,544 ترک اداروں نے پہلی بار برآمدات کیں، جن کی کُل فروخت 4.5 ارب ڈالرز رہیں۔

ترکی کے جی ڈی پی کی شرحِ نمو 2019ء میں مثبت رہی اور 2020ء میں تقریباً 5 فیصد ہوگی۔ جی ڈی پی مسلسل سہ ماہی تک سکڑنے کے بعد 2019ء کی چوتھی سہ ماہی میں بڑھا۔ سال کی چوتھی سہ ماہی کے لیے اوسط اندازہ 4.5 سے 5 فیصد ہے۔ مجموعی سالانہ نمو 0.3 سے 0.6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔گزشتہ سال ستمبر میں بنائے گئے نئے اقتصادی منصوبے کا ہدف 2020ء، 2021ء اور 2022ء میں 5 فیصد سالانہ شرحِ نمو پانا ہے۔

تبصرے
Loading...