ترکی مرسین کی بندرگاہ بیروت کو استعمال کے لیے دے گا، ترک نائب صدر

0 389

ترکی کے نائب صدر فواد اوقتائی نے کہا ہے کہ ترکی بیروت کی بندرگاہ پر آپریشنز کے دوبارہ آغاز تک تجارت، کسٹمز اور اسٹوریج کے لیے اپنی مرسین کی بندرگاہ لبنان کو استعمال کے لیے دے گا۔ وہ وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو کے ہمراہ ہفتے کے روز بیروت پہنچے تھے کہ جہاں اس ہفتے ایک زبردست دھماکے نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

لبنانی صدر مشیل عون سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں فواد اوقتائی نے کہا کہ ترکی بیروت کی بندرگاہ اور دیگر عمارتوں کی دوبارہ تعمیر کے لیے مدد دینے کو تیار ہے۔

اوقتائی نے کہا کہ "تمام ہسپتال اور ترکی کی تمام ایئر ایمبولنسز لبنان کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔” صدر رجب طیب ایردوان نے دھماکے کے دن ہی لبنان کو طبی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا کہ جس میں 160 افراد مارے گئے اور 5،000 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم یہاں تعزیت کے لیے آئے ہیں۔”

ترکی نے 400 ٹن انسانی امداد لبنان بھیجی ہے اور تعمیر نو کے عمل میں ساتھ دینے کے علاوہ دوسرا ضروری ساز و سامان بھیجنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

دور میں ترک عہدیدار صدر کے علاوہ پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری اور وزیر اعظم حسن دیاب سے ملیں گے۔

منگل کو بیروت کی بندرگاہ پر ایک گودام میں آگ لگ گئی تھی جس کے بعد ایک زبردست دھماکا ہوا اور اردگرد کے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔

اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ یہ دھماکا 2,750 ٹن امونیم نائٹریٹ کے ذخیرے میں ہوا کہ جسے 2013ء میں ضبط کرکے یہاں محفوظ کیا گیا تھا۔ آگ لگنے کی وجہ کا ابھی علم نہیں ہو سکا۔

تبصرے
Loading...