امریکا نے وعدے پورے نہ کیے تو شام میں ترک آپریشن جاری رہے گا، صدر ایردوان

0 263

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ امریکا نے باہمی معاہدے پر عمل درآمد نہ کیا اور پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کے دہشت گردوں کے انخلاء کو یقینی نہ بنایا تو ترکی شمال مشرقی شام میں دہشت گردوں کے خلاف اپنا آپریشن جاری رکھے گا۔

صدر نے کہا کہ "”اگر امریکی وعدے پورے نہ ہوئے، تو ہمارا آپریشن 120 واں گھنٹہ مکمل ہوتے ہی شروع ہو جائے گا۔”

نائب صدر مائیک پنس کی زیرِ قیادت امریکی وفد نے جمعرات کو صدر ایردوان سمیت ترکی کے اہم رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ترک آپریشن کو پانچ دِن کے لیے روکنے پر رضامندی کا اظہار کیا۔ معاہدے میں کہا گیا ہے کہ YPG سیف زون سے نکل جائے گی جو شام میں 20 میل اندر تک ہے اور دونوں ممالک کی سرحد پر تقریباً 125 کلومیٹرز تک پھیلا ہوا ہے۔

صدر نے صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ اگر روسی پشت پناہی رکھنے والی بشار الاسد کی وفادار فوجیں YPG کے خاتمے کے لیے اس علاقے میں داخل ہو جائیں تو ترکی کو کوئی مسئلہ نہیں۔ ساتھ ہی یہ کہا کہ انقرہ شمالی شام کے علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔

ایردوان نے کہا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آپریشن کے آغاز سے ایک دن پہلے فون کے ذریعے آگاہ کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ترک آپریشن کے بارے میں ٹرمپ کے عجیب خط کو ترکی "نہیں بھول سکتا”، البتہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں کے مابین باہمی "محبت و احترام” انہیں اس معاملے کو ترکی کے ایجنڈے پر لانے سے روکتا ہے۔

یہ ٹرمپ کے خط پر ایردوان کا پہلا تبصرہ ہے جس میں انہوں نے دوسری کئی باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ ایردوان "tough guy” بننے کی کوشش نہ کریں۔ ایردوان کا کہنا ہے کہ ترکی "وہ تمام اقدامات اٹھائے گا، جنہیں وہ ضروری سمجھے گا۔”

صدر ایردوان نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کا خط، جو سیاسی و سفارتی ذرائع سے ہاتھوں ہاتھ نہیں آیا، میڈیا پر سامنے آیا۔ بلاشبہ ہم اسے نہیں بھولے، یہ بھولنے والی چیز نہیں ہے۔

ترکی نے شمالی شام میں داعش اور PKK کی شامی شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹ (YPG) کے دہشت گردوں کو نشانہ بنانے کے لیے سرحد پار انسداد دہشت گردی آپریشنز کے سلسلے کا تیسرا مرحلہ آپریشن چشمہ امن 9 اکتوبر کی شام 4 بجے شروع کیا۔

ترکی بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے یہ آپریشن کر رہا ہے، جس کا ہدف دریائے فرات کے مشرقی علاقے میں دہشت گردوں سے پاک ایک سیف زون کا قیام اور وہاں شامی باشندوں کی واپسی کو ممکن بنانا ہے کہ جو اس وقت امریکا کی پشت پناہی سے کام کرنے والی شامی جمہوری افواج (SDF) کے قبضے میں ہے کہ جن میں سب سے بڑی اکثریت YPG کے دہشت گردوں کی ہے۔

PKK – جسے ترکی، امریکا اور یورپی یونین دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں – نے 30 سے زیادہ سالوں سے ترکی کے خلاف جنگ چھیڑ رکھی ہے جس کا نتیجہ تقریباً 40,000 لوگوں کی اموات کی صورت میں نکلا ہے، جن میں عورتیں، بچے بلکہ شیرخوار تک شامل ہیں۔

تبصرے
Loading...