ترکی کریمیائی تاتار باشندوں کے حقوق کا دفاع جاری رکھے گا، صدارتی ترجمان

0 144

صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کریمیائی تاتار باشندوں کے اجتماعی جبری انخلاء کے 76 سال مکمل ہونے پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ترکی کریمیائی تاتار باشندوں کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔

اس انخلاء کو تاریخ کے دامن پر ایک "سیاہ دھبہ” قرار دیتے ہوئے قالن نے کہا کہ کریمیائی تاتاروں کو 18 مئی 1944ء کو اپنے وطن سے جبراً نکال دیا گیا اور سوویت یونین کے مختلف علاقوں میں موجود جبری کیمپوں میں ڈال دیا گیا۔

"زیادہ تر بوڑھے، بجے اور خواتین تو راستوں میں ہی یا ان کیمپوں کے بدترین حالات کی وجہ سے دم توڑ گئے۔ اور آج 76 سال گزر جانے کے باوجود کریمیائی لوگوں کے حقوق اب بھی بحال نہیں کیے گئے۔”

قالن نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے کریمیا پر قبضے سے کریمیائی تاتار باشندوں کے لیے مشکلات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے، اور ترکی تمام بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرتا رہے گا۔

وزارت خارجہ کے ترجمان حامی آقصوئے نے کہا کہ "چھہتر سال پہلے آج ہی کے دن یعنی 18 مئی کو کریمیائی تاتار ترکوں، یعنی کریمیا کے مقامی باشندوں، کو جبراً مادر وطن سے نکالا گیا اور انہیں انتہائی غیر انسانی حالات میں جلاوطن کیا گیا۔ ڈھائی لاکھ کریمیائی تاتاروں کا بڑا حصہ راستے میں یا جلاوطنی میں ہی اپنی جانیں کھو بیٹھا۔ کریمیائی تاتار 1944ء میں جبراً نکالے جانے کے بعد دہائیوں تک اپنے وطن یعنی جزیرہ نما کریمیا واپس نہ آ سکے۔

آقصوئے نے کہا کہ "ترکی اب بھی ماضی کی طرح کریمیائی تاتار ترکوں کی حمایت کرتا ہے اور ان کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرنے اور ان کے اپنے وطن میں محفوظ قیام، پرامن طور پر رہنے اور اپنی شناخت کے تحفظ کی ضمانت دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔”

تبصرے
Loading...