ترکی سمندروں میں اپنے حقوق اور مفادات کا تحفظ جاری رکھے گا، صدر ایردوان

0 141

صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ترکی مشرقی بحیرۂ روم میں یونان اور اس کے پشت پناہوں کے ساتھ اختلافات کے باوجود اپنے مفادات اور حقوق کا تحفظ جاری رکھے گا۔

انہوں نے یہ بیان جنگِ پریویزا کی یاد میں جاری کیا ہے جو 1538ء میں یونان کے ساحل پر ہوئی تھی جس میں عثمانیوں نے مسیحی اتحاد کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی تھی۔

عظیم امیر البحر خیر الدین باربروسا کی زیرِ قیادت عثمانی بحریہ کو ملنے والی اس کامیابی کو ترک تاریخ کا فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ اس فتح نے دنیا کو ترک بحریہ کی طاقت دکھائی۔

انہوں نے کہا کہ "تاریخ ثابت کرتی ہے کہ جن سمندروں میں ہمارے سپاہیوں کا راج رہا وہاں امن، آسودگی اور انصاف عام رہا۔ ہمیں فخر ہے کہ پریویزا جیسی عظیم فتوحات کی امین ہماری بحری افواج اس عظیم ورثے کو مزید آگے لے جا رہی ہیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرۂ روم میں ہونے والے حالیہ واقعات نے ایک مضبوط بحریہ کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے، ترکی نے اپنے بیڑے کو مقامی طور پر تیار کردہ ٹیکنالوجیز سے اچھی طرح لیس کیا ہے۔ "ہم ان 10 ممالک میں شامل ہیں کہ جو اپنے جنگی جہاز خود ڈیزائن کرنے، بنانے اور ان کی مرمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔”

ترکی اور یونان کے مابین مشرقی بحیرۂ روم میں بحری حدود کا تنازع کشیدہ صورت اختیار کر گیا ہے جس میں فرانس سمیت کچھ ممالک ایتھنز کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

انقرہ واضح طور پر اشارہ دے چکا ہے کہ وہ یونان کے دعووں کے سامنے سر جھکاتے ہوئے علاقے میں اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگا۔

تبصرے
Loading...