اگر امریکا کے ساتھ معاہدہ نہ ہو سکا تو ترکی خود سیف زون بنائے گا، وزیرِ دفاع

0 402

وزیر دفاع خلوصی آقار نے کہا ہے کہ اگر امریکا کے ساتھ کوئی معاہدہ طے نہ پا سکا تو ترکی شمالی شام کی سرحد کے ساتھ خود سیف زون بنائے گا۔

آقار نے اپنے امریکی ہم منصب مارک ایسپر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور انہیں ایک مرتبہ پھر بتایا کہ ترکی امید رکھتا ہے کہ امریکا PKK دہشت گرد تنظیم کی شام میں موجود شاخ پیپلز پروٹیکشن یونٹس (YPG) کی حامل شامی ڈیموکریٹک فورسز (SDF) کی پشت پناہی مکمل طور پر چھوڑ دے گا۔ "اگر ترکی اور امریکا متفق نہ ہوئے تو انقرہ اپنے بل بوتے پر ایک سیف زون تخلیق کرنے پر مجبور ہوگا۔” آقار نے کہا۔

ایک بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ آقار نے مارک ایسپر کو امریکا کا نیا وزیر دفاع بننے پر مبارک باد پیش کی۔ ساتھ ہی اس دہرایا کہ انقرہ جنوبی ترکی میں دہشت گردوں کی گزرگاہ نہیں بننے دے گا اور ترکی اپنے ملک اور عوام کی حفاظت ہی نہیں بلکہ خطے میں رہنے والے کرد، عرب، آشوری، مسیحی اور یزیدی باشندوں کا بھی تحفظ چاہتا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ ترکی شمالی شام کے مجوزہ سیف زون پر کنٹرول دیے جانے کے قابل واحد مجاز اور مؤثر طاقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف زون کی بنیاد علاقے میں PKK/YPG سے تمام ہتھیار واپس لینے، 30 سے 40 کلومیٹر عریض سیف زون سے دہشت گرد تنظیم کے خاتمے اور PKK/YPG کی تمام سرنگوں، پناہ گاہوں، آلات اور گولا بارود کے خاتمے پر رکھی جانی چاہیے کہ جسے ترکی اور امریکا باہمی تعاون سے کنٹرول کریں گے۔

F-35 فائٹر جیٹ پروگرام کے حوالے سے آقار نے کہا کہ ترکی اس منصوبے کا محض خریدار ہی نہیں بلکہ سرمایہ کار اور پروڈکشن پارٹنر بھی ہے اور یہ پروگرام منصوبے کے مطابق چلنا چاہیے۔

2016ء سے اب تک ترکی شمال مغربی شام میں دہشت گرد گروپوں، بالخصوص PKK/YPG، کے خاتمے کے لیے دو بڑے فوجی آپریشن کر چکا ہے، آپریشن فرات شیلڈ اور شاخِ زیتون۔ ترکی طویل عرصے سے دریائے فرات کے مشرق میں YPG کے علاقوں میں ایک جارحانہ کارروائی کے اشارے دے رہا ہے۔ البتہ گزشتہ دسمبر میں حکومت نے اس آپریشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ ان دہشت گردوں کے سب سے بڑے پشت پناہ امریکا نے شام سے اپنے فوجی نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کو فوری طور پر YPG کو امریکی پشت پناہی کا خاتمہ سمجھا گیا لیکن اب واضح ہے کہ امریکا اب بھی اس دہشت گرد تنظیم کی پشت پناہی کر رہا ہے اور شام سے فوج کے انخلا کے معاملے پر بھی متضاد بیانات دے چکا ہے، اس لیے انقرہ اور واشنگٹن ترکی کے سکیورٹی خدشات کو ختم کرنے کے لیے ایک 32 کلومیٹر عریض سیف زون پر مذاکرات کر رہے ہیں۔ البتہ اس معاملے پر ابھی تک کوئی قدم اٹھایا نہیں گیا۔

تبصرے
Loading...