ترکی کا مقامی ایئر ڈیفنس سسٹم جلد شام میں نصب کیا جائے گا

0 341

دفاعی صنعت پریزیڈنسی (SSB) کے سربراہ اسماعیل دیمر نے کہا ہے کہ ترکی مقامی طور پر تیار کیا گیا کم اور درمیانی بلندی تک مار کرنے والا ایئر ڈیفنس سسٹم جلد شام میں نصب کرے گا۔

ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع شمال مغربی شام کے صوبے ادلب میں بڑھتی ہوئی کشیدہ صورت حال کی وجہ سے ہفتہ بھر میں ایک کم بلندی تک مار کرنے والا ایئر ڈیفنس سسٹم ‘حصار-A’ شام میں نصب کیا جائے گا جبکہ درمیانی بلندی تک مار کرنے والا ڈیفنس سسٹم ‘حصار-O’ جلد ہی میدان میں اتارا جائے گا۔

ڈیفنس سسٹمز مشترکہ طور پر معروف دفاعی اداروں ASELSAN اور ROKETSAN کی جانب سے بنائے گئے ہیں کہ جن کی تعمیر میں SSB کا تعاون حاصل رہا۔

یہ سسٹمز میدانِ جنگ میں آپریشن اسپرنگ فیلڈ کا حصہ ہوں گے کہ جس کا آغاز اتوار کو ادلب میں کیا گیا ہے۔ یہ آپریشن بشار اسد کی افواج اور ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو ہدف کا نشانہ بناتا ہے کہ جنہیں 27 فروری کو ترک افواج پر کیے گئے اس حملے کے بعد ردعمل کا سامنا ہے کہ جس میں 34 ترک فوجی شہید اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ de-escalation زون میں پیش آیا تھا۔

دیمر نے بتایا کہ اس وقت کم بلندی تک مار کرنے والا ایئر ڈیفنس سسٹم Korkut میدان میں موجود ہے اور حصار کی آمد ترکی کی فضائی دفاع کی صلاحیتوں کو نئی سطح پر لے جائے گی۔

Korkut مقامی سطح پر ASELSAN کی جانب سے تیار کیا گیا ہے اور فی منٹ 1,100 راؤنڈز فائر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر فوجی ڈرون راکٹوں کا پتہ نہ لگا سکیں تو یہ سسٹم راکٹ کو زمین پر پہنچنے سے 4 کلومیٹر پہلے تک نشانہ بنا سکتا ہے۔

حصار کو فوجی اڈوں، بندرگاہوں، تنصیبات اور دستوں کو فضا سے درپیش خطرات سے بچانے کے لیے بنایا گیا تھا ساتھ ہی یہ ترک فوج کی کم اور درمیانی بلندی کے ایئر ڈیفنس سسٹم کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔

ترکی کے مقامی طور پر تیار کیے گئے الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز بھی میدانِ عمل میں موجود ہیں اور ڈرون آپریشنز میں مدد دے رہے ہیں۔ حال ہی میں کئی وڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہیں جن میں ترکی کے مقامی طور پر تیار شدہ ڈرونز کو روس کے Pantsir S-1 ایئر ڈیفنس سسٹم سمیت کئی اہداف کو نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔

ترکی اب تک 2,557 شامی فوجیوں، 135 ٹینکوں، 40 سے زیادہ بکتر بند گاڑیوں، 45 توپوں، 44 راکٹ لانچرز، 12 اینٹی ٹینک، 29 اینٹی ایئر کرافٹ ہتھیاروں، ایک ڈرون، آٹھ ہیلی کاپٹرز 9 اسلحہ خانوں کو ٹھکانے لگا چکا ہے۔

ترک فضائیہ نے بھی ایک دو روسی ساختہ جہازوں کو مار گرایا ہے، جو ایف-16 طیاروں سے داغے گئے میزائلوں کی زد میں آئے۔

ترکی نے ادلب میں شامی حکومت کے ایک فضائی حملے میں 34 ترک فوجیوں کی شہادت کے بعد اتوار سے آپریشن اسپرنگ شیلڈ کا آغاز کیا ہے۔ یہ حملہ ترکی کی جنوبی سرحد کے ساتھ شمال مغربی شام کے de-escalation زون میں کیا گیا تھا۔ ترکی فوجی ستمبر 2018ء میں روس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت مقامی شہریوں کی حفاظت کرتے ہوئے شہید ہوئے، یہ معاہدہ ادلب میں جارحانہ کارروائی سے منع کرتا ہے۔ لیکن اس علاقے میں شام اور روس کے حملوں میں 1,300 سے زیادہ شہری مارے جا چکے ہیں، سیز فائر کی خلاف ورزی بدستور جاری ہے جس کی وجہ سے دس لاکھ سے زیادہ فوجی شام سے ملحقہ ترکی کی سرحد کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

آپریشن اسپرنگ شیلڈ شمالی شام میں ترکی کا چوتھا فوجی آپریشن ہے۔

تبصرے
Loading...